Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ڈاکٹر آلاء النجـ.ـار صبر و استقامت اور عزم و حوصلے کی نشان

غزہ کی ڈاکٹر آلاء النجـ.ـار صبر و استقامت اور عزم و حوصلے کے ایک عظیم نشان کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔

اسرائیل افواج کی حالیہ بمباری کے نتیجے میں اولوالعزم صابرہ خاتون ڈاکٹر آلاء النجـ.ـار کے 10 میں سے 9 بچے شـ.ـہید ہوگئے جبکہ ان کا ایک بیٹا اور شوہر شدید زخمی ہیں۔

ایسی صورتحال میں بڑے سے بڑے اعصاب کے مالک انسان کے اعصاب بھی جواب دے جاتے ہیں، لیکن جب ڈاکٹر آلاء النجـ.ـار کو یہ خبر سنائی گئی تو انھوں نے صبر و استقامت کی عظیم مثال پیش کردی۔

ڈاکٹر آلاء کی بہن سحر النجـ.ـار نے کہا کہ میں نے ان سے چلا کر کہا ’’بچے چلے گئے ہیں آلاء‘‘، مگر انہوں نے بہت پرسکون انداز میں جواب دیا ’’وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، رزق پا رہے ہیں۔‘‘

جمعہ، 23 مئی کو ماہر اطفال ڈاکٹر آلاء خان یـ.ـونس میں اپنے گھر سے ناصـ.ـر ہسپتال میں فرض کی ادائیگی کرنے پہنچیں۔ ان کے شوہر ڈاکٹرحمدی النجـ.ـار انہیں چھوڑ کر گھر واپس لوٹے اور کچھ منٹ بعد ہی اسـ.ـرائیلی میزائیل ان کے گھر پر گرا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت، نسل کشی روکنے کا مطالبہ

اسـ.ـرائیلی بمـ.ـباری سے لگنے والی آگ اتنی شدید تھی کہ ان کے بچے جل کر راکھ ہو گئے اور کچھ بچے قابل شناخت بھی نہیں رہے۔ ابھی تک صرف سات بچوں کے جسد خاکی نکالے جا سکے ہیں جنہیں دفنایا گیا ہے اور دو بچوں کی تلاش ابھی بھی جاری ہے۔

اسـ.ـرائیلی حمـ.ـلے کی اطلاع ملتے ہی وہ گھر پہنچیں جو تب تک ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ ان کے سامنے محکمہ شہری دفاع نے ان کے بچوں کے لاشے ایک ایک کر کے نکالے۔

ڈاکٹر حمدی کے بھائی علی النجـ.ـار نے کہا کہ وہ اس وقت حیران رہ گئے جب انھوں نے ڈاکٹر آلاء کو اپنے ساتھ کھڑے دیکھا۔ ’’اہلکار مجھے ایک بچے کا لاشہ پکڑا رہا تھا۔ وہ میرے برابر میں کھڑی تھیں اور انہوں نے بچے کو پہچان لیا۔ انہوں نے کہا ’یہ ریفال ہے، اس کو مجھے دے دیں۔

یہ ایک ماں کی فطرت تھی کہ انہوں نے بے اختیار اپنی بچی کو اپنی بانہوں میں لینے کی خواہش کی، جیسے وہ زندہ ہو۔‘‘ جس وقت ان کے بچوں کے سوختہ لاشے نکالے جا رہے تھے، اس وقت بھی یہ عظیم خاتون اسی طرح باپردہ اور صبر و استقامت کی چٹان بن کر کھڑی تھیں۔

ڈاکٹر آلاء کے شـ.ـہید بچوں يحيى، راكان، رسلان، جبران، حواء، ريفال، سادن، لقمان، اور سدرة کی عمریں 12 سال سے چھ ماہ کے درمیان ہیں، اور ان کا بیٹا آدم جو انتہائی نگہداشت میں ہے، 11 سال کا ہے۔

ناصـ.ـر ہسپتال کے ڈاکٹر أحمد الفرا نے کہا کہ اپنے بچوں کی شـ.ـہادت کے باوجود ڈاکٹر آلاء نے خدمات کی انجام دہی جاری رکھی اور اس دوران وقتاً فوقتاً اپنے زخمی شوہر اور بیٹے کو دیکھتی رہیں۔

غـ.ـزہ کی وزارت صحت کے عہدیدار يوسف أبو الريش نے بتایا کہ جب وہ ہسپتال پہنچے تو وہ ’’سرفراز، پر سکون، صابر، پر وقار کھڑی تھیں، اور ان کی آنکھیں رضا سے بھری ہوئی تھیں۔ ان کی زبان سے صرف تسبیح اور استغفار کی سرگوشیاں سنائی دے رہی تھیں۔‘‘

ڈاکٹر آلاء کی بہن سحر النجـ.ـار نے کہا کہ میں نے ان سے چلا کر کہا ’’بچے چلے گئے ہیں آلاء‘‘، مگر انہوں نے بہت پرسکون انداز میں جواب دیا ’’وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، رزق پا رہے ہیں۔‘‘

غـ.ـزہ کی اس عظیم خاتون کی قوت کا سرچشمہ قرآن ہے۔ ڈاکٹر آلاء کے سب بڑے بچے حافظ قرآن ہیں۔ اس کٹھن آزمائش میں، جب وہ اپنے سب بچوں کو شناخت کر کے الوداع بھی نہیں کہہ سکیں، وہ خاموشی سے ثبات اور عزیمت کا پہاڑ بن کر کھڑی ہیں۔

متعلقہ خبریں