چترالی نوجوان مبینہ طورپر2لڑکیاں بھگالایا،عمائدین نے بیک وقت دونوں سے نکاح پڑھوادیا۔ ایک ہی وقت میں 2 لڑکیوں سے افیئر چلانا زندگی بھر کے لئے نوجوان کے گلے پڑگیا۔ دونوں ہی گھر پہنچ گئیں اور پول کھل گیا۔
نواحی گاؤں سوریچ سے تعلق رکھنے والے سرتاج احمد نے ایک لڑکی کو شادی کی غرض سے بھگا کر اپنے گھر پہنچایا۔
گاؤں کی ایک اورلڑکی پہلے ہی سے شادی کے لیے اس کے گھر پہنچ چکی تھی۔ دونوں لڑکیوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ نوجوان کا دونوں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ تھا۔
ایک ہی وقت میں 2لڑکیاں چترالی نوجوان کے گھرپہنچ گئیں
واضح رہے کہ جترالی نوجوان نے دونوں لڑکیوں سے شادی کے وعدے بھی کیے تھے۔ عین موقع پر لڑکیوں نے گھر واپس جانے سے بھی انکار کردیا۔
گاؤں کے عمائدین نے صورتحال کااندازہ کرتے ہوئے دونوں لڑکیوں کا بیک وقت نوجوان سے نکاح پڑھوایا۔
یہ واقعہ چترال کے دور افتادہ گاؤں تورکہو(سوریچ) کاہے ۔ پولیس کے مطابق جترالی نوجوان سرتاج احمدفرنٹیئر کور (ایف سی) کااہلکار ہے۔
مزیدپڑھیں : پاکستان میں کتنے فیصدلوگ پسند کی شادی کر پاتے ہیں ؟
مقامی پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق سرتاج نے اپنی پسند کی ایک لڑکی کو بھگا کر اپنے گھر پہنچایا ۔
تاہم جب وہ گھر پہنچا توحیرت انگیز طور پر ایک اور لڑکی بھی وہیں موجود تھی۔ پولیس کے مطابق دوسری لڑکی کی موجودگی سے حالات کچھ کشیدہ ہوگئے۔
کیونکہ دونوں لڑکیاں سرتاج کے ساتھ نکاح کی خواہش رکھتی تھیں اس لئے معاملہ بگڑنے لگا۔
سرتاج نے بیک وقت دونوں لڑکیوں سے افیئرکااعتراف کرلیا
بعدازاں یہ بات سامنے آئی کہ سرتاج کادونوں لڑکیوں کے ساتھ بیک وقت افیئرتھا اورشادی کاوعدہ کر رکھاتھا۔
مقامی عمائدین نے صورتحال کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن دونوں لڑکیوں نے انکار کردیا۔
چترالی نوجوان نے اعتراف کیاکہ اس کا دونوں کے ساتھ افیئر تھااوروہ دونوں کے ساتھ نکاح کے لیے تیارہے۔
علاقے کے ایک مذہبی عالم سے رابطہ کیا گیا عالم دین نے دونوں لڑکیوں سے الگ الگ ان کی رضامندی لی۔
دونوں لڑکیوں کا حق مہر 9،9 لاکھ روپے مقرر
دریں اثنا چترالی نوجوان کا نکاح دونوں سے 9،9 لاکھ روپے حق مہر پر پڑھا دیاگیا۔
بیک وقت دولڑکیوں سے نکاح ہونے کے بعدگاؤں میں خوشی کی لہردوڑ گئی۔ لوگوں کی بڑی تعدادمبارکباد دینے پہنچ گئی۔
علاوہ ازیں دلہا اور دونوں دلہنوں کی ایک ویڈیو بھی منظرِ عام پر آگئی۔ جس میں دونوں بیویاں سرتاج کے ساتھ کھڑی ہیں۔
