اسرائیل نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ “یہودی ریاست کے خلاف صلیبی جنگ” جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ میکرون کو حقائق سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق، غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کی ناکہ بندی نہیں ہے اور اسرائیل امداد پہنچانے کے لیے سہولت فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میکرون حماس پر دباؤ ڈالنے کے بجائے انہیں فلسطینی ریاست کا انعام دینا چاہتے ہیں اور اسرائیل پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: انسانی امداد کی بندش پر برطانیہ ، کینیڈا اور فرانس سمیت کئی ممالک کی اسرائیل کو دھمکی
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نےکہا ہےکہ ہم فلسطین کے مغربی کنارے میں یہودی اسرائیلی ریاست قائم کریں گے، صدر میکرون اور ان کے ساتھیوں کے لیے ہمارا واضح پیغام ہےکہ وہ فلسطین کو کاغذ کے ٹکڑے پر تسلیم کریں گے اور ہم یہاں زمین پر اسرائیلی ریاست قائم کریں گے۔
خیال رہےکہ گزشتہ روز فرانسیسی صدر میکرون نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے حمایت کرسکتے ہیں اور غزہ میں انسانی امدادی صورت حال بہتر نہ ہوئی تو فرانس اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں عائدکرسکتا ہے۔
فرانسیسی صدرکا کہنا تھا کہ اگر ہم غزہ کو مکمل طور پر اسرائیلی رحم وکرم پر چھوڑ دیں تو ہم اپنی ساکھ کھو دیں گے۔
میکرون نے فلسطینیوں کو جبری طور پر بے گھر کرنے کے اسرائیلی منصوبے کی سختی سے مذمت کی اور کہا کہ فلسطینی ریاست کو شرائط کے ساتھ تسلیم کرنا ایک اخلاقی فرض ہے۔




















