Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

قومی اقتصادی سروے تیار، کل پیش کردیا جائےگا ، اہم خدوخال کیاہیں ؟

قومی اقتصادی سروے تیار کرلیاگیاہے۔ کل (پیر کی)  سہہ پہر ڈھائی بجے پیش کیا جائے گا۔اہم خدو خال کیاہیں ؟ ۔ تفصیلات جانیے اس رپورٹ میں۔

وفاقی وزیر خزانہ محمداورنگزیب  قومی اقتصادی سروے رپورٹ پیش کریں گے ۔

مالی سال 2024,25 کی اقتصادی سروے رپورٹ کے اہم خدوخال  معلوم ہوگئے ہیں۔  مالی سال 25-2024 میں معاشی ترقی کی شرح 2.68 فیصد رہی۔

گزشتہ مالی سال معاشی ترقی کی شرح 2.51 فیصد تھی۔ مالی سال 25-2024 میں زرعی ترقی کی شرح 0.56 فیصد رہی۔

صنعتی ترقی کی شرح  4.7 فیصد رہی

زرعی ترقی کی شرح 6.4 فیصد تھی، مالی سال 25-2024 میں صنعتی ترقی کی شرح  4.7 فیصد رہی۔  گزشتہ مالی سال صنعتی ترقی کی شرح 1.37 فیصد رہی۔

رواں مالی سال لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 1.53 فیصد ریکارڈ ہوا۔ گزشتہ مالی سال لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 0.94 فیصد تھی۔

رواں مالی سال میں تعمیراتی شعبے میں ترقی کی شرح 6.61 فیصد رہی۔گزشتہ مالی سال تعمیراتی شعبے کی ترقی کی شرح 1.14 فیصد تھی۔

معیشت کا حجم 411 ارب ڈالر

رواں مالی پاکستان کی معیشت کا حجم 411 ارب ڈالر ہے۔ گزشتہ مالی سالی پاکستان کی معیشت کا حجم 372 ارب ڈالر تھا۔ رواں مالی سال پاکستانیوں کی فی کس آمدن 1824 ڈالر سالانہ رہی۔

 گزشتہ مالی سال پاکستانیوں کی فی کس آمدن 1680 ڈالر سالانہ تھی۔ رواں مالی سال جولائی سے مارچ پرائمری بیلنس 3469 ارب روپے رہا۔

جولائی سے مارچ پرائمری بیلنس 1615 ارب روپے تھا۔رواں مالی سال جولائی سے مارچ بجٹ خسارہ 2970 ارب روپے رہا۔

بجٹ خسارہ 3902 ارب روپے رہا،قومی اقتصادی سروے

قومی اقتصادی سروے کے مطابق بجٹ خسارہ 3902 ارب روپے رہا۔ رواں مالی سال جولائی سے مارچ بجٹ خسارہ معیشت کا 2.4 فیصد رہا۔  گزشتہ مالی سال جولائی سے مارچ بجٹ خسارہ معیشت کا 3.7 فیصد تھا۔

برآمدات 26.89 ارب ڈالر رہیں

رواں مالی سال جولائی سے اپریل برآمدات 26.89 ارب ڈالر رہیں۔ گزشتہ مالی سال جولائی سے اپریل برآمدات 25.27 ارب ڈالر تھیں

جولائی سے اپریل ایکسپورٹ میں 7.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔ رواں مالی سال جولائی سے اپریل درآمدات میں 48.29 ارب ڈالر رہیں۔ گزشتہ مالی سال جولائی سے اپریل درآمدات 44.9 ارب ڈالر تھیں۔

تجارتی خسارہ 21.3 ارب ڈالر ریکارڈ

قومی اقتصادی سروے کے مطابق جولائی سے اپریل 10 ماہ میں تجارتی خسارہ 21.3 ارب ڈالر ریکارڈ ہوا۔ گزشتہ مالی سال جولائی سے اپریل تجارتی خسارہ 19.6 ارب ڈالر تھا

10 ماہ میں سمینٹ کی پیداوار 37.3 ملین ٹن رہی۔گزشتہ مالی سال جولائی سے اپریل سمینٹ کی پیداوار 37.4 ملین ٹن تھی۔ جولائی سے اپریل 10 ماہ میں ایک لاکھ 11 ہزار 332 گاڑیاں تیار ہوئی

گزشتہ مالی سال جولائی سے اپریل ایک 79 ہزار 593 گاڑیاں تیار ہوئی تھیں۔ جولائی سے اپریل 10 ماہ میں 24 ہزار 832 ٹریکٹرز تیار کیے گئے ہیں

پٹرولیم مصنوعات کی فروخت 13.22 ملین

دریں اثنا پٹرولیم مصنوعات کی فروخت 13.22 ملین ٹن رہی۔ گزشتہ مالی سال جولائی سے اپریل پٹرولیم مصنوعات کی فروخت 12.4 ملین ٹن تھی

علاوہ ازیں گندم کے پیداوار میں 9.8 فیصد کمی ہوئی، گندم کی پیداوار 31.8 ملین ٹن سے کم ہو کر 28.9 ملین ٹن ہو گئی،۔ایک سال میں گندم کی پیداوار میں 29 لاکھ ٹن کی کمی ہوئی۔

چاول کی پیداوار میں 1.3 فیصد کمی ہوئی، چاول کی پیداوار 98.6 لاکھ ٹن سے کم ہو کر 97.2 لاکھ ٹن رہ گئی۔

واضح رہے کہ قومی اقتصادی سروے  کل دوپہر کو وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب پیش کرنے والے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version