Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسرائیل کا امدادی کشتی “مڈلین” پر قبضہ، عملے کی  گرفتاریاں، عالمی سطح پر شدید مذمت

غزہ کے محصور شہریوں کے لیے امداد لے جانے والی بین الاقوامی کشتی “مڈلین” کو اسرائیلی بحریہ نے قبضے میں لے کر 12 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق غزہ کے محصور شہریوں کے لیے امداد لے جانے والی بین الاقوامی کشتی “مڈلین” کو اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں زبردستی روک کر اس پر سوار 12 انسانی حقوق کے کارکنان اور صحافیوں کو حراست میں لے لیا، جس پر دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے فلسطینی امور فرانسسکا البانیز نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا: “مڈلین کو فوری رہا کیا جائے۔ غزہ کا محاصرہ توڑنا ریاستوں کی قانونی ذمہ داری اور ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بحیرۂ روم کے تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ امدادی کشتیاں روانہ کریں۔ اگر ہم متحد ہوں، تو ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔”

کشتی پر موجود عملے کے مطابق، شب 1 بجے کے قریب اسرائیلی بحریہ کی چار تیز رفتار کشتیوں نے مڈلین کو گھیر لیا، جبکہ دو ڈرونز نے عملے پر ایک سفید، گاڑھے اور آنکھوں میں جلن پیدا کرنے والے کیمیکل کا اسپرے کیا، جس سے انہیں شدید جسمانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مادہ غالباً ٹریکنگ کے لیے استعمال کیا گیا، تاکہ کشتی کی نگرانی ممکن ہو۔

اسرائیل کی جانب سے گرفتار کیے گئے افراد میں سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، الجزیرہ کے صحافی عمر فیاض ، جو دمہ کے مریض ہیں، فرانس سے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن، برازیل سے انسانی حقوق کے کارکن اور فریڈم فلوٹیلا برازیل کے منتظم تھیاؤ ایویلا سمیت متعدد نمایاں عالمی شخصیات شامل ہیں۔

کشتی پر سوار دیگر ارکان کا تعلق جرمنی، اسپین، ترکیہ، نیدرلینڈز اور فرانس سے ہے۔

قطر میں قائم سینٹر فار کانفلکٹ اینڈ ہیومینیٹیرین اسٹڈیز کے محقق موئن ربانی نے اس کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: “اگر یہ کارروائی کسی اور ملک نے کی ہوتی تو اسے کھلی سمندری قزاقی قرار دیا جاتا۔ لیکن اسرائیل کو ہمیشہ استثنا دیا جاتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کی اس ہدایت کی خلاف ورزی ہے، جس میں غزہ کو بلارکاوٹ امداد کی فراہمی پر زور دیا گیا تھا۔

واقعے سے قبل ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کشتی کے عملے کو ہتھیاروں کے سائے میں موبائل فون سمندر میں پھینکنے پر مجبور کیا گیا۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ایک ویڈیو جاری کر کے مڈلین کو “سیلفی یاٹ” اور اس کے سوار افراد کو “مشہوری کے بھوکے سیلیبریٹیز” قرار دیا۔

اس کے ردعمل میں ریٹگرز یونیورسٹی کے قانون دان عدیل حق نے کہا: یہ عمل انسانی عزت کی تضحیک کے مترادف ہے، جو بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔”

امریکا میں مقیم مسلم شہری حقوق تنظیم CAIR کے ڈائریکٹر نهاد عوض نے واقعے کو “بین الاقوامی قزاقی اور ریاستی دہشت گردی” قرار دیا اور کہا: “اسرائیل کو نہ تو غزہ کی بندرگاہوں پر قبضہ کرنے کا حق ہے، نہ ہی بین الاقوامی پانیوں میں انسانی امداد لے جانے والی کشتیوں پر کیمیائی حملہ کرنے کا۔”

انہوں نے مزید کہا: “ہم گریٹا تھنبرگ اور دیگر بہادر کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے مظلوم فلسطینیوں کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔”

اقوام متحدہ کی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے ایک بار پھر واضح کیا “اسرائیل کو غزہ پر قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔ محاصرہ ختم کیا جانا چاہیے، اور غزہ کے عوام کو فوری امداد فراہم کی جانی چاہیے۔ دنیا کی خاموشی ناقابلِ قبول ہے۔”

متعلقہ خبریں

Exit mobile version