غزہ کے محصور شہریوں کے لیے امداد لے جانے والی بین الاقوامی کشتی “مڈلین” کو اسرائیلی بحریہ نے قبضے میں لے کر 12 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق غزہ کے محصور شہریوں کے لیے امداد لے جانے والی بین الاقوامی کشتی “مڈلین” کو اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں زبردستی روک کر اس پر سوار 12 انسانی حقوق کے کارکنان اور صحافیوں کو حراست میں لے لیا، جس پر دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے فلسطینی امور فرانسسکا البانیز نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا: “مڈلین کو فوری رہا کیا جائے۔ غزہ کا محاصرہ توڑنا ریاستوں کی قانونی ذمہ داری اور ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ بحیرۂ روم کے تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ امدادی کشتیاں روانہ کریں۔ اگر ہم متحد ہوں، تو ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔”
While #Madleen must be released immediately, every Mediterranean port should send boats with aid, solidarity, and humanity to Gaza. They shall sail together—united, they will be unstoppable.#BreakingTheSiege is a legal duty for states, and a moral imperative for all of us. pic.twitter.com/FeaD1Fq4Dk
— Francesca Albanese, UN Special Rapporteur oPt (@FranceskAlbs) June 9, 2025
کشتی پر موجود عملے کے مطابق، شب 1 بجے کے قریب اسرائیلی بحریہ کی چار تیز رفتار کشتیوں نے مڈلین کو گھیر لیا، جبکہ دو ڈرونز نے عملے پر ایک سفید، گاڑھے اور آنکھوں میں جلن پیدا کرنے والے کیمیکل کا اسپرے کیا، جس سے انہیں شدید جسمانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مادہ غالباً ٹریکنگ کے لیے استعمال کیا گیا، تاکہ کشتی کی نگرانی ممکن ہو۔
SOS! the volunteers on ‘Madleen’ have been kidnapped by Israeli forces.
Greta Thunberg is a Swedish citizen.
Pressure their foreign ministries and help us keep them safe!Web: https://t.co/uCGmx8sn8j
X : @SweMFA
FB : @SweMFA
IG : swedishmfa#AllEyesOnMadeleen pic.twitter.com/76Myrg2Bnz— Freedom Flotilla Coalition (@GazaFFlotilla) June 9, 2025
اسرائیل کی جانب سے گرفتار کیے گئے افراد میں سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، الجزیرہ کے صحافی عمر فیاض ، جو دمہ کے مریض ہیں، فرانس سے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن، برازیل سے انسانی حقوق کے کارکن اور فریڈم فلوٹیلا برازیل کے منتظم تھیاؤ ایویلا سمیت متعدد نمایاں عالمی شخصیات شامل ہیں۔
کشتی پر سوار دیگر ارکان کا تعلق جرمنی، اسپین، ترکیہ، نیدرلینڈز اور فرانس سے ہے۔
قطر میں قائم سینٹر فار کانفلکٹ اینڈ ہیومینیٹیرین اسٹڈیز کے محقق موئن ربانی نے اس کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: “اگر یہ کارروائی کسی اور ملک نے کی ہوتی تو اسے کھلی سمندری قزاقی قرار دیا جاتا۔ لیکن اسرائیل کو ہمیشہ استثنا دیا جاتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کی اس ہدایت کی خلاف ورزی ہے، جس میں غزہ کو بلارکاوٹ امداد کی فراہمی پر زور دیا گیا تھا۔
واقعے سے قبل ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کشتی کے عملے کو ہتھیاروں کے سائے میں موبائل فون سمندر میں پھینکنے پر مجبور کیا گیا۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ایک ویڈیو جاری کر کے مڈلین کو “سیلفی یاٹ” اور اس کے سوار افراد کو “مشہوری کے بھوکے سیلیبریٹیز” قرار دیا۔
اس کے ردعمل میں ریٹگرز یونیورسٹی کے قانون دان عدیل حق نے کہا: یہ عمل انسانی عزت کی تضحیک کے مترادف ہے، جو بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔”
امریکا میں مقیم مسلم شہری حقوق تنظیم CAIR کے ڈائریکٹر نهاد عوض نے واقعے کو “بین الاقوامی قزاقی اور ریاستی دہشت گردی” قرار دیا اور کہا: “اسرائیل کو نہ تو غزہ کی بندرگاہوں پر قبضہ کرنے کا حق ہے، نہ ہی بین الاقوامی پانیوں میں انسانی امداد لے جانے والی کشتیوں پر کیمیائی حملہ کرنے کا۔”
“We strongly condemn the cowardly and illegal Israeli attack on the Madleen’s as it approached Gaza with desperately-need humanitarian supplies. This is a blatant act of international piracy and state terrorism.” @NihadAwad
READ: https://t.co/nWvdxAuqtl https://t.co/3tSOQVAAK5— CAIR National (@CAIRNational) June 9, 2025
انہوں نے مزید کہا: “ہم گریٹا تھنبرگ اور دیگر بہادر کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے مظلوم فلسطینیوں کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔”
اقوام متحدہ کی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے ایک بار پھر واضح کیا “اسرائیل کو غزہ پر قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔ محاصرہ ختم کیا جانا چاہیے، اور غزہ کے عوام کو فوری امداد فراہم کی جانی چاہیے۔ دنیا کی خاموشی ناقابلِ قبول ہے۔”
