Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

گریٹا تھنبرگ اور امدادی جہاز ‘مڈلین’ کا عملہ ملک بدر کیا جائے گا

 اسرائیلی حکام نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں روکے گئے انسانی امدادی جہاز ‘مڈلین‘ کے عملے کو جلد ملک بدر کر دیا جائے گا۔

اس جہاز پر سوار 12 افراد میں معروف سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور الجزیرہ کے صحافی عمر فیاض بھی شامل ہیں۔

‘مڈلین’ جہاز انسانی امداد لے کر غزہ کی طرف روانہ ہوا تھا اور اس کا مقصد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر عائد غیر قانونی بحری ناکہ بندی کو توڑنا تھا۔

تاہم، اسرائیلی کمانڈوز نے جہاز کو بین الاقوامی پانیوں میں، غزہ کے ساحل سے تقریباً 185 کلومیٹر دور روک کر اشدود بندرگاہ منتقل کر دیا۔

اسرائیلی حکام نے تمام افراد کو حراست میں لینے کے بعد اعلان کیا ہے کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کے بجائے ملک بدری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ترک اسرائیل بہتر تعلقات مسئلہ فلسطین پر مُنحصر ہیں، صدر رجب طیب اردوان

گرفتار کارکنوں کے وکیل نے الجزیرہ کو بتایا کہ ان کے مؤکل کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے بلکہ انسانی بنیادوں پر امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

گریٹا تھنبرگ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کی یہ کارروائی انسانی حقوق، ماحولیاتی انصاف اور غزہ کے محصور عوام کی حمایت کے لیے تھی۔

اقوام متحدہ اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور اسے انسانی ہمدردی کی کوششوں میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔

قبل ازیں، گزشتہ دنوں فریڈم فلوٹیلا کولیشن میں شامل غزہ میں امداد لے جانے والی کشتی ‘میڈلین’ کو قبضے میں لے کر اسرائیل پہنچا دیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ میڈلین امدادی کشتی کو اسرائیلی بندرگاہ اشدود پر لنگر انداز کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق کشتی میں سوار سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور دیگر افراد کا طبی معائنہ کیا گیا۔

بندرگاہ پہنچنے کے بعد کشتی میں سوار افراد کو ایک کمرے میں لے جاکر زبردستی7 اکتوبر 2023 میں حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والے حملے کی ویڈیو دکھائی گئی۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ان افراد نے اس ویڈیو کو دیکھنے سے انکار کر دیا تھا۔

فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی جانب سے بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج حملہ کرکے غیر قانونی طور پر میڈلین میں سوار ہوئی، حالانکہ اس مشن کا مقصد بھوک کے بحران کا سامنا کرنے والے غزہ کے عوام کو امداد پہنچانا تھا۔

واضح رہے کہ 6 جون کو سسلی سے روانہ ہونے والی اس کشتی میں معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور یورپی پارلیمان کی رکن ریما حسن سمیت مختلف ممالک کے 11 افراد سوار ہیں۔

اسرائیلی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ‘شو’ ختم ہوچکا، فریڈم فلوٹیلا کےمسافروں کو ان کے وطن واپس بھیجا جاسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی فلسطین کے لیےخصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز کا کہنا تھا کہ فریڈم فلوٹیلا کا سفر شاید ختم ہوگیا ہو مگر مشن ابھی ختم نہیں ہوا، بحیرہ روم کی ہر بندرگاہ کو غزہ کے لیے امداد اور یکجہتی کے ساتھ کشتیاں بھیجنی چاہئیں۔

قابض اسرائیلی بحری فوج نے فریڈم فلوٹیلا کولیشن میں شامل غزہ میں امداد لے جانے والی کشتی ‘میڈلین’ کو بین الاقوامی پانیوں میں روک کر اس کا محاصرہ کیا اور اسے قبضے میں لے لیا جبکہ جہاز پر سوار افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

اسرائیلی فوج نے جہاز کا گھیراؤ کرنے کے بعدکمیونیکیشن کو جام کیا اور مطالبہ کیا کہ جہاز میں موجود ہر شخص اپنا فون بند کر دے جس کے بعد جہاز کے ارکان کا رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ جہاز سے جاری لائیو نشریات بھی بند ہوگئیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے ڈرونز سے حملہ کرکے لوگوں پر ایسا سفید اسپرے کیا گیا جس نے جلد کو متاثر کیا۔

دوسری جانب حماس نے فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی قبضےکو منظم ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی قبضہ آزادی کی آواز کو خاموش نہیں کرسکےگا۔

متعلقہ خبریں