Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

یورینیم کی افزودگی قبول نہیں، ٹرمپ، مناسب تجویز پر کام کر رہے ہیں، ایران

 ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی جوہری معاہدے سے متعلق امریکہ کو ایک “متوازن اور منطقی” جوابی تجویز پیش کرے گا، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات جاری رہیں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے مئی کے آخر میں پیش کی گئی پیشکش ایران کے لیے “ناقابلِ قبول” ہے، اور تہران اس کا تفصیلی، معقول اور نیا جواب تیار کر رہا ہے، جو عمان کے ذریعے امریکہ کو پہنچایا جائے گا۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “وہ چیزیں مانگ رہے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے۔ وہ یورینیم کی افزودگی چاہتے ہیں، جو ہمیں قبول نہیں۔”

مزید پڑھیں: امریکا ایران جوہری معاہدے کی بحالی: فریقین مذاکرات سے زیادہ پُرامید نہیں

انہوں نے تصدیق کی کہ ایران سے مذاکرات جاری رہیں گے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یورینیم کی افزودگی جیسے معاملات اب بھی فریقین کے درمیان اختلاف کا باعث ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق آئندہ دور کی بات چیت اتوار کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں متوقع ہے۔ تاہم امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت جمعہ یا اتوار کو عمان یا اوسلو میں ہو سکتی ہے۔

مذاکرات میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہوں گے۔

بقائی نے کہا: “ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ پابندیاں ہٹانے سے قبل ایران کو حقیقی معاشی فوائد حاصل ہوں، اور اس کی بینکاری و تجارتی روابط معمول پر آ جائیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی حالیہ پیشکش نہ تو پچھلے مذاکراتی ادوار کا نتیجہ ہے، اور نہ ہی اس میں ایران کے اہم مطالبات جیسے یورینیم کی افزودگی کی اجازت، افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی بیرونِ ملک ترسیل، اور امریکی پابندیوں کا عملی خاتمہ شامل ہیں۔

ایرانی قیادت نے ایک بار پھر مغرب پر “دوہرا معیار” اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مغربی طاقتیں ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو نشانہ بناتی ہیں لیکن اسرائیل کے مبینہ جوہری ہتھیاروں پر خاموش رہتی ہیں۔

بقائی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ایسی اسرائیلی دستاویزات موجود ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ وہی ممالک جو ایران پر سوال اٹھاتے ہیں، اسرائیل کے فوجی جوہری پروگرام کو تقویت دینے میں مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ 2018 میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کر کے دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں، جس کے بعد ایران نے معاہدے کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی بڑھا دی تھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ پیر کو ان کی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے فون پر گفتگو ہوئی، جس میں ایران بنیادی موضوع رہا۔ نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق ٹرمپ نے انہیں آگاہ کیا کہ ایران سے مذاکرات ہفتے کے اختتام پر دوبارہ شروع ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version