-
یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے، جن میں دارالحکومت کییف کے کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق جنوبی بندرگاہی شہر اوڈیسا میں ایک زچہ و بچہ اسپتال سمیت شہری انفرااسٹرکچر شدید متاثر ہوا۔ ان حملوں میں 2 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق روس کی جانب سے یوکرین پر تازہ ترین حملے پیر کو کیے گئے ہیں، جس کو روس کی جانب سے یوکرینی ڈرون حملوں کا جواب قرار دیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں: روس یوکرین کو کبھی جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دے گا، پیوٹن
کیف کے فوجی حکام کے مطابق، ڈرون حملوں کے دوران شہر کے 10 میں سے 7 اضلاع متاثر ہوئے۔ کم از کم 4 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، جب کہ متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔
ریاستی میڈیا پر جاری تصاویر اور ویڈیوز میں مختلف علاقوں میں دھوئیں کے بادل، تباہ شدہ عمارتیں، اور زخمی شہریوں کی امداد کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: روس یوکرین تنازع، سعودی عرب نے ثالثی کی پیشکش کردی
کیف کے فوجی ضلع کے سربراہ تیمور تچاکینکو نے کہا: “پوری رات دشمن نے شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر دہشت پھیلانے کی کوشش کی۔”
صدر ولادیمیر زیلنسکی کے چیف آف اسٹاف آندری یرماک نے کہا: “دہشتگردی کے ذریعے یوکرینی عوام کا حوصلہ توڑا نہیں جا سکتا۔”
اوڈیسا کے گورنر اولیگ کیپر کے مطابق، رات بھر جاری رہنے والے ڈرون حملے میں ایمرجنسی میڈیکل سینٹر، زچہ و بچہ وارڈ، اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
حملے میں 2 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوئے، تاہم اسپتال کے تمام مریضوں اور عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
یوکرینی وزیر خارجہ اندری سبیہا نے روس پر نئی اور تباہ کن پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: “روس نے ایک بار پھر کسی بھی حقیقی امن کوشش کو رد کیا ہے۔ اب وقت ضائع کرنے کا موقع نہیں، فیصلہ کن اقدام کی ضرورت ہے۔”
مزید پڑھیں: روس یوکرین جنگ اور اُس کا عسکری فلسفہ
روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مشرقی یوکرین میں مزید علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اگرچہ ماسکو اور کیف کے درمیان تین سال بعد مذاکرات بحال ہوئے ہیں، تاہم قیدیوں کے تبادلے کے سوا کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فریقین پر جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اپنانے کا زور دیا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں کسی امن معاہدے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
اگرچہ دونوں ممالک شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہیں، لیکن جنگ کے آغاز سے اب تک ہزاروں عام شہری — جن میں اکثریت یوکرینی باشندوں کی ہے — ہلاک ہو چکے ہیں۔ جنگ کے باعث لاکھوں افراد بے گھر اور بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔




















