اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کی حکومت سنگین سیاسی بحران سے دوچار ہے، جہاں اپوزیشن نے پارلیمنٹ (کنیسٹ) تحلیل کرنے کے لیے بل پیش کر دیا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد نیتن یاہو کے اتحادی الٹرا آرتھوڈوکس (حریدی) جماعتوں کی جانب سے بل کی حمایت کی دھمکی نے حکومت کے خاتمے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
الٹرا آرتھوڈوکس جماعتیں حکومت سے اپنے افراد کو لازمی فوجی سروس سے استثنیٰ دینے کا قانون منظور کروانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ فوجی سروس ان کے مذہبی طرزِ زندگی کے منافی ہے۔ حریدی رہنماؤں کی جانب سے فوج میں شامل ہونے کے خلاف باقاعدہ مذہبی فتویٰ بھی جاری کیا گیا ہے۔
بدھ کو ہونے والی ووٹنگ نیتن یاہو کی حکومت کے لیے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے بعد سب سے بڑا چیلنج تصور کی جا رہی ہے۔
اگر بل منظور ہو گیا تو اسرائیل میں قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ اگر بل ناکام رہا تو آئندہ 6 ماہ تک دوبارہ پیش نہیں کیا جا سکے گا۔
اسرائیل اس وقت غزہ میں جنگ کے باعث تاریخ کے سب سے طویل فوجی تنازعے سے دوچار ہے، جس میں اب تک 866 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایسے میں حریدی جماعتوں کا حکومت سے الگ ہونا سیاسی عدم استحکام میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔




















