ارنب گوسوامی نے ہولناک حادثے پر بھی سازشوں کا پینڈورہ کھول دیا۔ اپنی عادت سے مجبور نام نہاد صحافی نے حادثے کوپاکستان سے جوڑ ہی دیا۔
انہوں نے کہاکہ ایسے طیارے میں سفرکرتے ہوئے تحفظ محسوس نہیں ہوتاجس کی دیکھ بھال ترک کمپنی کرتی ہو۔
ان کاکہناکہ یہ کمپنی ترکیہ حکومت کی ملکیت ہے،جس کے سربراہ بھارت مخالف اور پاکستان نواز طیب اردوان ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جب ہم اپنے طیاروں کی مرمت پاکستان میں نہیں ہونے دیتے،تو پھر ترکی جیسے دشمن ملک میں کیوں؟ ۔
مجھے ایسے طیارے میں سفر کرتے ہوئے بالکل تحفظ محسوس نہیں ہوتا جس کی دیکھ بھال ایک ترک کمپنی ٹیکنیک کرتی ہو۔ یہ کمپنی ترکیہ حکومت کی ملکیت ہے، جس کے سربراہ بھارت مخالف اور پاکستان نواز طیب اردوان ہیں۔ جب ہم اپنے طیاروں کی مرمت پاکستان میں نہیں ہونے دیتے، تو پھر ترکی جیسے دشمن ملک… pic.twitter.com/soqxwDD5Uw
— The Thursday Times (@thursday_times) June 12, 2025
ارنب گوسوامی نے ہولناک حادثے پر بھی سازشوں کا پینڈورہ کھول دیا۔ جس کے بعد بھارتی میڈیا نے بھی ایئرانڈیا طیارے حادثہ کو ترکی کے ساتھ جوڑنا شروع کردیا۔
بھارتی میڈیا نے ایئرانڈیا طیارے حادثہ کو ترکی کے ساتھ جوڑنا شروع کردیا؛
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، احمدآباد میں حادثے کا شکار ہونے والا ایئر انڈیا کا بوئنگ 787 طیارہ ترک کمپنی ترکش ٹیکنیک کی دیکھ بھال میں تھا، جو ترکش ایئرلائنز کی ذیلی کمپنی ہے اور جس میں ترکیہ حکومت کا 49… pic.twitter.com/GCm6PM1GO5— Raza Butt (@SocialDigitally) June 12, 2025
بھارتی میڈیاکے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا ایئر انڈیا کا بوئنگ 787 طیارہ ترک کمپنی ترکش ٹیکنیک کی دیکھ بھال میں تھا۔
ترک ٹیکنیک ترکش ایئرلائنز کی ذیلی کمپنی ہے۔ جس میں ترکیہ حکومت کا 49 فیصد حصہ ہے۔
اس انکشاف نے ایک بار پھر وہ خدشات تازہ کر دیے ہیں جو آپریشن سندور کے دوران سامنے آئے تھے۔جب مبینہ طور پر پاکستان نے ترک ساختہ ڈرونز استعمال کیے تھے۔
اس وقت بھارت میں ترک کمپنیوں سے تعلقات ختم کرنے کے مطالبات اٹھے۔
مگر اب تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
تاحال اس حادثے کو ترک کمپنی کی مرمت سے جوڑنے کاکوئی سرکاری ثبوت سامنے نہیں آیا۔




















