فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ ایران، جو غزہ میں مزاحمتی گروپوں کا طویل عرصے سے حامی رہا ہے، آج اپنی اصولی حمایت کی قیمت ادا کر رہا ہے۔
یہ بیان اسرائیل کی جانب سے ایرانی فوجی اور جوہری تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران آج فلسطین اور اس کی مزاحمت کے لیے اپنی ثابت قدم حمایت اور خودمختار قومی پالیسیوں کی قیمت چکا رہا ہے۔
واضح رہے کہ حماس کے رہنما ایران کو بارہا عسکری اور مالی تعاون پر خراجِ تحسین پیش کر چکے ہیں، خصوصاً اکتوبر 2023 میں اسرائیل کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے دوران۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی عملوں میں ایرانی عسکری قیادت کی شہادت کے بعد نئی کمان سامنے آ گئی
دوسری جانب ایران نے اسرائیلی حملوں کے بعد شدید ردعمل کا اعلان کرتے ہوئے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے 100 سے زائد ڈرونز فضا میں چھوڑے گئے جنہیں روکا جا رہا ہے، تاہم وہ اسرائیلی سرزمین تک نہیں پہنچ سکے۔
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ صیہونی دشمن یہ سمجھنے میں دھوکے میں ہے کہ یہ بزدلانہ حملے مزاحمتی محاذوں کو کمزور کر دیں گے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ درحقیقت، وہ مسلسل ایسے اسٹریٹجک غلط فیصلے کر رہا ہے جو اس کے زوال کو قریب لا رہے ہیں، ان شاءاللہ۔




















