Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایران، اسرائیل جنگ: عسکری اعتبار سے کون زیادہ طاقتور ہے؟

اسرائیل کی ایران پر جارحیت کے بعد ایران کی جانب سے اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینے کا سلسلہ جاری ہے، اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب مسلسل ایران کی جانب سے فائر کیے جانے والے میزائلوں کی زد میں ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران اب تک اسرائیل پر 250 سے زائد میزائل داغ چکا ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی وزارت دفاع اور موساد ہیڈکوارٹرز کی عمارتوں سمیت متعدد عمارتیں آگ کی لپیٹ میں آچکی ہیں۔

ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں کئی عمارتیں مکمل تباہ ہوچکی ہیں، جبکہ 4 اسرائیلی ہلاک اور 60 سے زیادہ زخمی ہیں، اسرائیل بھر میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے، اور شہریوں نے بدستور بنکرز میں پناہ لے رکھی ہے۔

مزید پڑھیں: ایرانی حملے سے اسرائیلی جنگی کابینہ میں پھوٹ پڑ گئی

ادھر ایران کی جانب سے اسرائیل کے 3 ففتھ جنریشن ایف 35  طیارے تباہ کرنے اور ایک خاتون اسرائیلی پائیلٹ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا جارہا ہے۔ ایران کا ایئرڈیفنس سسٹم مکمل فعال ہے اور اسرائیلی حملوں کو کامیابی سے روک رہا ہے۔

ایسے میں یہ ضروری ہے کہ دونوں ممالک کی عسکری صلاحیتوں کا ایک جائزہ پیش کیا جائے اور دیکھا جائے کہ اسباب کی حد تک کس کو کس پر برتری حاصل ہے؟

اسرائیل اور ایران کی عسکری قوت کو دیکھا جائے تو گلوبل فائر پاور انڈیکس میں ایرانی فوج کو دنیا میں 16ویں نمبر پر رکھا گیا ہے جبکہ اسرائیل 15ویں نمبر پر آتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کسی صورت قبول نہیں، سعودی وزیر خارجہ

اسرائیل اپنے جنگی بجٹ پر 27 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کرتا ہے جبکہ ایران کا دفاعی بجٹ 10 ارب ڈالر کے قریب ہے۔

حاضر سروس فوجی قوت کےلحاظ سے ایران کا اسرائیل پر پلڑا بھاری ہے۔ ایران کے پاس پاسداران انقلاب کے 1لاکھ 90 ہزار گارڈز سمیت 6 لاکھ 10 ہزار فعال فوجی موجود ہیں جبکہ اسرائیل کی حاضر سروس فوجیوں کی تعداد 1لاکھ 70 ہزار ہے۔

اسرائیل اس وقت جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے، اسرائیل کی فضائیہ کے پاس ایف 35، ایف 16 اور ایف15 سمیت 340 فائٹر جیٹ اور 46 اٹیک ہیلر کاپٹر ہیں ،جو اسے ایران پر فضائی برتری دیتی ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کا ایران کی فوجی و ایٹمی تنصیبات پر بڑا حملہ، پاسداران انقلاب کے سربراہ اور آرمی چیف سمیت 6 سائنسدان شہید

اس کے برعکس ایران کے پاس 312 پرانی ساخت کے امریکی اور روسی لڑاکا طیارے ہیں جبکہ 34 جنگی ہیلی کاپڑ ہیں ۔

ایران کے لڑاکا طیاروں میں ایف فور، ایف فائیو،ایف 7، ایف 14اور روسی ساختہ سکوئی اور کچھ مگ 29 شامل ہیں ۔

فضائی صلاحیتوں میں اسی کمی کو ایران نے اپنے میزائل پروگرام کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔

ایران کے پاس 300 کلومیٹر کی رینج والے شہاب ون سے لے کر 25سو کلومیٹر تک مار کرنے والا سومار کروز میزائل ہے جبکہ ہائپر سونک الفتح بیلسٹک میزائل بھی میزائل نظام کا حصہ ہے۔

مزید پڑھیں: تل ابیب آگ وخون میں ڈوب گیا،3 صیہونی طیارے تباہ،اسرائیل کا تہران میں مہرآبادایئرپورٹ اور شہری آبادیوں پرحملہ

اسرائیل اپنے میزائل پروگرام پر تبصرہ نہیں کرتا لیکن دیگر دستیاب معلومات کے مطابق اسرائیل کے پاس 250 کلومیٹر کی رینج والے ڈیلائلا میزائل سمیت ساڑھے 6 ہزار کلومیٹر تک تک مار کرنے والا جریکو 3میزائل ہے۔

ایران کے پاس ڈرونز کی بھی ایک بڑی تعداد موجودہے، جس میں شہید 129 اور شہید 136 شامل ہیں، جو اسرائیل دفاعی نظام کو ناقص بنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں جبکہ اسرائیل کے پاس ہیرون اور ہیروپ نامی ڈرونز ہیں ، جو انٹیلیجنس سمیت براہ راست حملوں کےلیے استعمال کیےجاتے ہیں۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان حالانکہ تقریباً 2152 کلومیٹر کا زمینی فاصلہ ہے لیکن 3 اپریل اور اکتوبر 2024 میں ایران نے اسرائیل پر میزائل حملہ کر کے اپنے میزائل اور ڈرونز پر وگرام کی افادیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

فضائی دفاعی نظام کی بات کی جائے تو ایران کے پاس روسی ساختہ ایس 300 میزائل سمیت مقامی طورپر تیار کردہ باور 373 سسٹم بھی ہے جبکہ حال ہی کم فاصلے اور کم اونچائی والے آذرخش کو بھی دفاعی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اس کے برعکس اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام 3 تہوں پر مشتمل ہے ، جن میں ایرو سسٹم ، ڈیوڈ سلنگ، اور آئرن ڈوم شامل ہے جن کاشمار دنیا کے بہترین سسٹم میں کیا جاتا ہے۔

بحری صلایتوں کی بات کی جائے تو ایران کے پاس 17 ٹیکٹیکل آبدوزوں سمیت ، 68 جنگی بحری جہاز موجود ہیں جبکہ اسرائیل کے پاس 5 آبدوزیں اور 49 جنگی جہاز ہیں۔

سائبر وار فیئر صلاحیتو ں میں اسرائیل کو دنیا کے 5 بڑے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، جس کے پاس جی پی ایس جامنگ، ڈرون انٹرسیپشن، اور سائبر حملوں کی صلاحیت موجود ہے۔

اس کےبرعکس ایران کی اس میدان میں صلاحیتیں محدود ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version