کیا سال 2025 بڑی جنگوں کا سال ثابت ہو گا ؟۔ مودی اورنیتن یاہو نے بڑے فتنوں کو جنم دے کر عالمی امن خطرے میں ڈال دیا۔
یہ بات یقینی طور کہی جاسکتی ہے کہ کوئی بھی ذی شعور ریاست جنگ حامی نہیں ہوسکتی۔
مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 2025 اپنے ساتھ جنگ وجدال ، طاقت اوررعونیت کی داستانیں لے کر شروع ہوا۔
اس سال کی ابتداسے اب تک کم از کم 4 بڑے عالمی تنازعات شدت کے ساتھ بھڑک اٹھے ہیں ۔
غزہ اور دیگر فلسطینی علاقے اسرائیلی جارحیت کاشکار بنے
جنوری سے جاری بمباری میں اسرائیل نے اب تک غزہ اور فلسطین کےعلاقوں کو ملیا میٹ کرکے رکھ دیا ہے۔
یہ تنازع اس قدر شدت اختیار کیا کہ عالمی طاقتوں کی بارہا اپیلوں کے باوجود اسرائیل جارحیت سے باز نہ آگیا۔

پاک بھارت کشیدگی
اسرائیل کے اہم اتحادی مودی نے پہلگام واقعے کی آڑ میں پاکستان پر حملہ کردیا۔ جس کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائیاں کیں اور بھارت کا سیز فائر پر مجبور ہوناپڑا۔

یوکرین اور روس کا تنازع شدت اختیار کرگیا
یوکرین اور روس کا تنازع شدت اختیار کرگیا۔ یوکرین کی جانب سے روس کے ایئر بیس پر حملہ کیاگیا۔
جواب میں روس نے بھی یوکریں میں شدید بمباری کی۔ اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔

ایران اسرائیل جنگ چھڑ گئی
ایران اور اسرائیل کا تنازع اس قدر بڑھا کہ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ جنگ چھڑ گئی ۔ اسرائیلی نے ایران پر حارحیت میں پہل کی۔
جواب میں ایران نے بھی اسرائیل کو وہ مناظر دکھائے جس کی توقع پوری دنیا نہیں کررہی تھی۔

کیا سال 2025 بڑی جنگوں کا سال ثابت ہو گا ؟، ماہرین کیا کہتے ہیں؟
کہنے کو یہ محض 4 عالمی تنازعات ہیں۔غیرجانبدار ماہرین کاکہناہے کہ یہ سلگتے تنازعات عالمی امن کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں ۔
ان 4 میں 3 تنازعات کا براہ راست تعلق مودی اور نیتن یاہو گٹھ جوڑسے ہے۔ دونوں نے بڑے فتنوں کو جنم دے کر پوری دنیا کا امن خطرے میں ڈال دیاہے۔
غزہ کا معاملہ کہاں جاکر رکے گا؟۔
پاک بھارت کشیدگی کیا دوبارہ سر اٹھا لے گی ؟۔
اسرائیل ایران جنگ کانتیجہ یا اثرات کیاہونگے؟۔
یوکرین اور روس کا تنازع دنیا کو کس موڑ پر لے جائے گا؟۔
واضح رہے کہ یہی وہ سوالات ہیں جو اشارہ دے رہے ہیں کہ سال 2025 واقعی جنگوں کا سال ثابت ہوگا۔
علاوہ ازیں خدشہ ہے کہ اس سال کے بعد دنیا تباہ کن جنگوں کے سفرکی جانب گامزن ہوجائے گی۔




















