کینیڈا میں ہونے والے جی7 اجلاس میں عالمی رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اجلاس کا مرکزی نقطہ ایران-اسرائیل تنازعہ ہوگا۔
عالمی میڈیا کے مطابق کینیڈا کے شہر کاناناسکِس میں جاری 51ویں جی7 اجلاس میں عالمی رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، یہ اجلاس 16 جون کو شروع ہوگا اور 17 جون تک جاری رہے گا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، جرمن چانسلر فریڈریش مرز، جاپانی وزیراعظم شِیگیرُو ایشیبا، اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی سمیت دیگر عالمی رہنما اس سمٹ میں شرکت کے لیے پہنچ چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: جی سیون ممالک کا سربراہی اجلاس ختم، مشترکہ اعلامیہ جاری
امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اجلاس کے ایجنڈے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو کلیدی حیثیت حاصل رہے گی،
فرانسیسی صدر میکرون نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران-اسرائیل تنازع آنے والے گھنٹوں میں تھم جائے گا، بات چیت کا راستہ کھلے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں جی7 رہنماؤں کے ساتھ اس معاملے پر بات کرنے کا موقع ملے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران-اسرائیل تنازع کے حوالے سے “جلد امن” کا دعویٰ کیا ہے، جس پر یورپی رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یورپی رہنما ٹرمپ سے وضاحت طلب کر رہے ہیں کہ آیا وہ اس تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی عملی اقدامات کریں گے یا اسے مزید بڑھنے دیں گے۔
اجلاس میں بین الاقوامی سیکیورٹی اور عالمی استحکام پر بھی بات چیت ہو گی، امریکی صدر ٹرمپ نے ٹیرف پالیسی پر بات کریں گے۔
یورپی رہنما ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کی منتقلی پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔




















