Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سوویت انجینئروں کا دیوانہ پن، ہوائی جہاز کا انجن ٹرین میں لگا دیا، مگر کیوں؟ جانیے

یہ کوئی سائنس فکشن فلم کا کہانی نہیں ہے بلکہ 1970ء کی دہائی میں سوویت یونین میں پیش آنے والا ایک حقیقی تجربہ تھا، جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔

سوویت یونین کے انجینئروں نے ملک میں پہلی دفعہ تیز ترین سفری سہولیات کو متعارف کرانے کے لیے ٹرین میں ہوائی جہاز کے جیٹ انجن کا استعمال کر کے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

Soviet high-speed EMU train ...

سوویت انجینئروں نے ایک غیرمعمولی منصوبے کے تحت Yak-40 طیارے کے استعمال شدہ جیٹ انجنوں کو ریل گاڑی پر لگایا۔ اس منصوبے کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا ہوائی جہاز کے انجن زمین پر موجود ٹرین کو بھی بجلی کی طرح دوڑا سکتے ہیں۔

ER22 سیریز کی ایک مخصوص موٹر کار کو اس مقصد کے لیے منتخب کیا گیا، جسے ایروڈائنامک اعتبار سے تبدیل کر کے ٹرین کی رفتار بڑھانے کے لیے موزوں بنایا گیا۔ پہیوں کو کورز سے ڈھانپا گیا تاکہ ہوا کی مزاحمت کم ہو جائے۔

اس کا نتیجہ دنیا کے لیے حیران کن تھا جب ایک ریل گاڑی جو گویا زمین پر اُڑ رہی تھی، 1972 میں یہ حیران کن جیٹ ٹرین 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑی  جو اس وقت سوویت یونین کی تیز ترین زمینی سواری تھی۔

1975 میں جب سوویت حکومت نے “ER200” نامی ہائی اسپیڈ الیکٹرک ریل سروس کا آغاز کیا، تو اس جیٹ ٹرین کو بند کر دیا گیا۔

لیکن آج بھی یہ تجربہ انجینئرنگ کے ایک دیوانے خواب کی حیثیت رکھتا ہے جہاں ٹیکنالوجی نے حقیقی معنوں میں پٹری پر پر لگا دیے تھے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version