Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکا ایران کے خلاف یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کر سکتا ہے، اسرائیلی میڈیا

اسرائیلی میڈیا نے صیہونی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرسکتا ہے، اور اسرائیل اس آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔

اس کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیتوں کے حوالے سے پیدا ہونے والی بڑھتی ہوئی تشویش کو کم کرنا ہے۔ تاہم، اگر ایران اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتا ہے تو امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ حکمت عملی کے تحت ایران کے حساس جوہری اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر مزید حملے کیے جائیں گے۔

اسرائیلی خبر رساں ادارے وائے نیٹ کے سینئر صحافی رونین برگمین کے مطابق، اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کے موجودہ اور سابق اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں ایک یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کا ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ، ایران نے اسرائیل پر خیبر میزائل داغ دیئے

حکام نے وضاحت کی ہے کہ اگر ایران جنگ بندی کو تسلیم کرتا ہے تو اسے اپنے لیے کامیابی کے طور پر پیش کرے گا، جب کہ امریکا اور اسرائیل اس کو اپنے سیاسی اور سٹریٹیجک مقاصد کے حصول کے طور پر دیکھیں گے، یعنی ایران کے جوہری خطرے کو روکنا۔ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے اس اقدام کو ایران پر دباؤ ڈالنے کا ایک ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔

اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران پر حملے میں استعمال کیے گئے امریکہ کے GBU57 بنکر بسٹر سسٹم اور B2 بمبار طیارے کی خصوصیات 

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فردو نیوکلیئر پلانٹ پر شدید بمباری کی گئی اور اب وہ مزید کام کے قابل نہیں رہا۔

ایران نے امریکی حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے اس کا بھرپور جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جواب کا وقت اور نوعیت ایران کی فوج خود طے کرے گی، جس سے خطے میں مزید کشیدگی اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

یہ تمام developments خطے میں بڑے سٹریٹیجک فیصلوں کی نشاندہی کرتے ہیں، اور ایران، امریکا، اور اسرائیل کے درمیان آنے والے دنوں میں جوہری معاہدے اور سکیورٹی کے حوالے سے اہم تبدیلیوں کا عندیہ دے سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version