سوات میں حالیہ سانحے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جس میں اہم نکات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، سانحے کا پہلا ذمہ دار زیڈ کے بی نامی نجی کنٹریکٹر کو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایریگیشن محکمے نے بند باندھنے کی اجازت دی تھی اور اس کے حکام نے سوات ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا، تاہم ڈی سی، اے ڈی سی ریلیف اور ریسکیو 1122 نے اس بارے میں کوئی قدم نہ اٹھایا، جس کے نتیجے میں سانحہ پیش آیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ واقعے سے قبل پانی کی سطح 6 ہزار کیوسک کے قریب تھی، جو معمول کے مطابق تھی اور کوئی غیر معمولی صورتحال نہیں تھی۔
تاہم سانحے کے بعد مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس کی اصل وجوہات کا پتہ چلایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: سانحہ سوات؛ ہیلی کاپٹر نہ آیا، قیمتی جانیں چلی گئیں، خیبرپخوتنخوا حکومت پر کڑی تنقید
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ آبپاشی سے متعلق ایک پیغام واقعے سے پہلے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کیا گیا تھا، جبکہ دوسرے پیغامات واقعے کے بعد یا اس کے قریب موصول ہوئے۔
یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ واقعے کی نوعیت اور اس کی شدت کے بارے میں متعلقہ حکام کو بروقت معلومات نہیں دی گئیں۔
کمشنر مالاکنڈ ڈویژن نے بتایا کہ اس وقت واقعے کی نوعیت اور وقت پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔ رپورٹ میں نقشہ جات کی منظوری دینے والے اداروں کی نشاندہی بھی زیر غور ہے تاکہ اس بات کا پتا چل سکے کہ آیا متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی لاپرواہی یا غفلت تو نہیں برتی گئی۔
