پنجاب میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر مجوزہ بلدیاتی قانون میں اہم اور بڑی نوعیت کی تبدیلیوں کو حتمی شکل دینے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق قانون میں عوامی شمولیت، اقلیتوں اور خواتین کی نمائندگی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے انقلابی تجاویز سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت ضلع کی سطح پر قائم ہونے والی بلدیاتی اتھارٹی کا چیئرمین اب ڈپٹی کمشنر کی بجائے عوامی نمائندہ ہوگا، جو جمہوریت کے فروغ کی جانب اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
قائمہ کمیٹی برائے بلدیات کے حالیہ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ بلدیاتی سطح پر اقلیتی اور خواتین نمائندگان کا انتخاب براہ راست عوامی ووٹ سے کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق یہ تجاویز قانون کے ابتدائی مسودے میں شامل کر لی گئی ہیں۔
حکومتی رکن صوبائی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور کے چیئرمین فلبوس کرسٹوفر نے اجلاس میں کہا کہ اقلیتی نمائندوں کا براہ راست انتخاب عوامی مسائل کے فوری حل میں مدد دے گا اور حقیقی قیادت کو سامنے لائے گا۔
اس تجویز کو قائمہ کمیٹی برائے بلدیات کے اجلاس میں کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے مجوزہ قانون قائمہ کمیٹی کو بھجوایا گیا تھا، جس پر تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ قائمہ کمیٹی آئندہ اجلاس میں اس قانون کی حتمی رپورٹ منظوری کے لیے پیش کرے گی۔
فلبوس کرسٹوفر کے مطابق اقلیتی نمائندوں کے براہ راست انتخاب کے حوالے سے پنجاب اسمبلی میں پہلے ہی اتفاق رائے موجود ہے، جو اس قانون سازی کے جلد عمل میں آنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔
