امریکی ریاست ٹیکساس کے علاقے ہل کنٹری میں شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں افراد لاپتہ یا پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ گواڈیلوپ دریا کے کنارے واقع ہے۔
حکام نے بتایا کہ لاپتہ ہونے والوں میں ایک عیسائی گرلز سمر کیمپ کی 23 سے 25 نوجوان لڑکیاں بھی شامل ہیں جو سیلاب کے وقت کیمپ میں موجود تھیں۔
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے جمعہ کی رات ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں رات بھر اور ہفتے کے روز تک جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا، ہم اس آپریشن کے لیے وسائل کی کوئی حد مقرر نہیں کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت متاثرین کی مدد کے لیے اقدامات کرے گی۔ ہم ان کا خیال رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی نیشنل ویدر سروس نے کر کاؤنٹی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں فلیش فلڈ ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے، جہاں 12 انچ تک بارش ریکارڈ کی گئی۔
کرول شہر کے مینیجر ڈالٹن رائس کے مطابق، سیلابی صورتحال اتنی تیزی سے پیدا ہوئی کہ بروقت انخلاء کا انتباہ جاری کرنا ممکن نہ تھا۔ یہ سب کچھ دو گھنٹوں سے بھی کم وقت میں ہوا۔
ٹیکساس ڈویژن آف ایمرجنسی مینجمنٹ کے ڈائریکٹر ڈبلیو نیم کڈ نے بتایا کہ اگرچہ محکمہ موسمیات نے جمعرات کو ہی شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کی وارننگ دی تھی، لیکن جو بارش ہوئی، اس کی پیش گوئی نہیں کی گئی تھی۔
ریسکیو ٹیمیں جن میں ریاستی اور وفاقی ادارے شامل ہیں، اب بھی متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امداد کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔




















