روسی عدالت نے خود کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ جنم قرار دینے والے متنازع فرقہ سربراہ سرگئی ٹوروپ، المعروف ’ویساریون‘ (Vissarion) کو 12 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
عدالت نے انہیں اپنے پیروکاروں کی ذہنی و جسمانی صحت کو نقصان پہنچانے اور مالی استحصال کا مرتکب قرار دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سرگئی ٹوروپ جو ماضی میں ٹریفک پولیس افسر تھے نے 1991 میں سائبریا کے علاقے کراسنویارسک کے ایک دور دراز پہاڑی مقام پر چرچ آف دی لاسٹ ٹیسٹیمنٹ کے نام سے مذہبی جماعت قائم کی۔

سوویت یونین کے خاتمے کے بعد بننے والی اس تحریک میں ہزاروں افراد شامل ہوئے، جنہوں نے سن سٹی یا ابوڈ آف ڈان نامی بستی میں بسیرا کیا اور اس جعلی حضرت عیسیٰ کی تعلیمات پر عمل کرتے تھے۔
ویساریون نے اپنے پیروکاروں کو گوشت کھانے، شراب نوشی، تمباکو نوشی، گالی گلوچ اور پیسے کے استعمال سے منع کیا۔ ان کے عقیدت مند روزانہ ان کے نام کی دعائیں پڑھتے اور ان کی پہاڑی رہائش گاہ کو مرکزِ عقیدت سمجھتے تھے۔

نووسیبیرسک کی عدالت نے ویساریون اور ان کے ساتھی ولادیمیر ویڈرنیکوف کو 12، جبکہ تیسرے ساتھی وادیم ریڈکن کو 11 سال قید کی سزا سنائی۔
تینوں مجرموں کو اپنے متاثرین کو اخلاقی نقصان کے ازالے کے طور پر 4 کروڑ روبل (تقریباً 5 لاکھ 11 ہزار امریکی ڈالر) ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔
تمام ملزمان نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا ہے۔
یاد رہے کہ ان تینوں افراد کو روسی سیکیورٹی ایجنسی FSB (سابق KGB) کی جانب سے 2020 میں ایک ہیلی کاپٹر چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔




















