امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے وینزویلا اور اس کے صدر نکولس مادورو کے خلاف ’بڑے پیمانے پر کارروائی‘ کی ہے۔
ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کے بعد صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا۔
امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق یہ آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے انجام دیا گیا۔
قبل ازیں وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں کم از کم 7 زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن کے بعد شہر کے جنوبی علاقوں میں شدید کشیدگی پھیل گئی۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق دھماکے ہفتے کی علی الصبح کراکس کے جنوبی حصے میں ایک اہم فوجی اڈے کے قریب ہوئے، جس کے بعد دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ دھماکوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ دھماکوں کے فوراً بعد جنگی طیاروں کو کم بلندی پر پرواز کرتے دیکھا گیا، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، تاہم امریکی صدر کی جانب سے حال ہی میں وینزویلا میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کی وارننگ دی گئی تھی۔
دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکا پر حکومت گرانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن وینزویلا کے تیل کے وسیع ذخائر پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔
صدر مادورو نے امریکی سرمایہ کاری کی اجازت دینے کا عندیہ بھی دیا اور تیل کمپنی شیورون کو اس کی مثال قرار دیا۔
تاہم، مبینہ امریکی حملے سے متعلق سوال پر صدر مادورو کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر چند دن بعد بات کریں گے۔
