پنجاب اسمبلی کے اسپیکر سبطین خان سے اپوزیشن ارکان اسمبلی کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سردار اویس لغاری، رانا مشہود اور خلیل طاہر سندھو نے اسپیکر سبطین خان سے ملاقات کی۔
ملاقات میں پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی احسن انداز سے چلانے کے امور پر مشاورت کی گئی۔
خیال رہے کہ ملاقات میں خواجہ سلمان رفیق سمیت مسلم لیگ ن کے دیگر ارکان بھی شریک تھے۔
مسلم لیگ ن کا پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی اجلاس
دوسری جانب مسلم لیگ ن کا پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی اجلاس جاری ہے جس کی صدارت خواجہ سعد رفیق اور رانا ثناء اللہ کر رہے ہیں۔
اجلاس میں اعتماد کے ووٹ کے بارے میں مشاورت کی جا رہی ہے اور پنجاب اسمبلی کے ایوان میں جانے پر بھی مسلم لیگ ن حکمت عملی طے کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کو شکست کا خوف ، پنجاب اسمبلی میں ہنگامی آرائی
اس کے علاوہ اجلاس میں ایوان میں گزشتہ روز حکومت نے جو بل پاس کیے اس پر غورو خوص کیا جائے گا اور وزیر اعلیٰ کے اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر احتجاج پر لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
رانا ثناء اللہ کی گفتگو
اجلاس سے قبل پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہمارے پاس 186 ارکان ہیں، ہمارے پاس 179 ارکان ہیں اور کوشش ہے کہ 180 ہوجائیں لیکن پنجاب حکومت کے پاس نمبرز پورے نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکتی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ انکے پاس 186 نہیں ہے اس صورتحال میں نیا وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہوتا تو رن آف الیکشن سے اکثریت والا ہی وزیراعلیٰ منتخب ہو سکتا ہے اور آخری آپشن گورنر راج بھی لگ سکتا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں ارکان کو جانے سے نہیں روکا جاسکتا، اسپیکر کا اندر جانے سے روکنے کا حکم غیر قانونی ہے میں خود بھی پارلیمنٹیرین ہوں اگر ایسا کریں گے انجام زیادہ نزدیک ہوگا۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ اقلیتی حکومت جو پرویز الہیٰ اس وقت مسلط ہیں حال یہ ہے میرا داخلہ بند کرنے کی کوشش کی ہے۔
پنجاب اسمبلی میں وفاقی وزراء کے داخلے پر پابندی عائد
واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے وفاقی وزراء کی اسمبلی داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، اعظم نذیر تارڑ اورعطا تارڑ کو اسمبلی کے اندر نہ جانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
اسمبلی سیکرٹریٹ نے سارجنٹ اینڈ آرمز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ کوئی وفاقی وزیر اسمبلی میں داخلہ نہ ہو۔
اسمبلی سیکیورٹی اسٹاف نے عطا تاڑر کی گاڑی کو پنجاب اسمبلی میں داخلے سے روک کر گیٹ داخلے کے لیے بند کر دیا۔
