ادارہ خوراک و زراعت ( ایف اے او) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں مستقبل قریب میں غذائی پیداوار متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
جنیوا میں منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ادارہ خوراک و زراعت برائے اقوام متحدہ (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کیو ڈونگ یو نے کہا کہ پاکستان میں موثر امداد کے بغیر مستقبل قریب میں غذائی پیداوار کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
کیو ڈونگ یو نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ سال سیلاب سے آنے والی تباہی نے زراعت کے شعبے اور چھوٹے کسانوں کو متاثر کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 4.4 ملین ایکڑ زرعی زمین جو کہ 6.14 ملین لوگوں کے لیے فصلیں کاشت کرنے کے لیے کافی تھی کو نقصان پہنچا،8 لاکھ سے زیادہ مویشی ہلاک ہوئے ،مجموعی طور پر زراعت کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ 9 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے ۔
مزید پڑھیں: پاکستان قدرتی آفات کے ساتھ کرپٹ عالمی معاشی سسٹم کا شکار ہے، گوتریس
ڈائریکٹر جنرل ایف اے او نے کہا کہ ادارہ خوراک و زراعت برائے اقوام متحدہ (ایف اے او)پاکستان کے زرعی اور غذائی نظام کو موثر، پائیدار اور لچکدار بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ سب لوگوں کی اس میں شمولیت کو یقینی بنایا جاسکے۔
کیو ڈونگ یو نے مزید کہا کہ پاکستان میں گزشتہ سال موسم گرما میں آنے والے سیلاب کے تناظر میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ سال سیلاب سے آنے والی تباہی نے خصوصی طور پر زراعت کے شعبے اور چھوٹے کسانوں کو متاثر کیا ہے جن کی گزر بسر کا ذریعہ زراعت ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ایف اے او نے کہا کہ زیادہ فکر مندی کی بات یہ ہے کہ ان نقصانات کا زیادہ اثر فصلوں کو پہنچا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ موثر امداد کے بغیر مستقبل قریب میں غذائی پیداوار کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
مزید پڑھیں: عالمی برادری کا پاکستان کے لیے 10ارب ڈالر کی امداد کا اعلان
کیو ڈونگ یو نے کہا کہ پاکستان ایک بار پہلے بھی 2010 میں آنے والے سیلاب سے ہونے والی تباہی سے گزر چکا ہے اور ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایف اے او کا ادارہ فوری امداد سے لے کر طویل المدتی بنیادوں پر حکومت پاکستان کی مدد کرتا رہے گا ۔
کانفرنس سے و زیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نےبھی خطاب کیا۔
ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل نے اس موقع پر مویشیوں کو بچانے سے لے کر چھوٹے کسانوں کی ربیع کی فصلوں کی بروقت کاشت میں مدد تک ایف اے او کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
ایف اے او مختلف ڈونرز کی مالی معاونت سے 25 ملین ڈالر سے زیادہ کے مختصر اور طویل المدتی منصوبوں پر کام کررہا ہے۔اب تک چھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو بیج اور کھاد فراہم کیے جا چکے ہیں۔
اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں بڑے اور چھوٹے جانوروں کو ویکسین لگانے کا منصوبہ مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ سندھ میں یہ مہم تکمیلی مراحل میں ہے۔
متاثرہ گھرانوں میں جانوروں کے لیے چارے کی فراہمی کا سلسلہ بھی جلد شروع کیا جائے گا۔
