صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ملک میں معاشی استحکام لانے کے لیے عام انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملک بھر کے 54 چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور اور کاروباری برادری کے نمائندوں کی ملاقات ہوئی جس میں کراچی، لاہور، فیصل آباد، سرحد اور راولپنڈی چیمبرز آف کامرس اور فارماسیوٹیکل سیکٹر کے نمائندے بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران تاجر برادری کے نمائندوں نے ملک کی معاشی صورتحال کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور موجودہ مالیاتی مسائل پر قابو پانے کے لیے اپنی سفارشات بھی پیش کیں۔
اس موقع پر صدر مملکت کو کاروباری برادری کی جانب سے ملکی بندرگاہوں پر جان بچانے والی ادویات بنانے کے لیے استعمال ہونے والے خام مال کی عدم کلیئرنس کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں؛ بحیثیت قوم ہمیں اپنی سماجی اور ثقافتی اقدار کا تحفظ کرنا ہو گا، صدر عارف علوی
ملاقات میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پارلیمنٹ، عدلیہ، حکومت اور تاجر برادری کو ملک کو درپیش مسائل کی نشاندہی اور حل کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ملک میں سیاسی، معاشی اور مالی استحکام لانے کے لیے عزم کے ساتھ مسائل حل کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کو ہر گزرتے دن کے ساتھ برقرار اور مضبوط ہونا چاہیئے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مشکل معاشی صورتحال کا سامنا، تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے سے عام انتخابات کا انعقاد ضروری ہے جبکہ سیاسی، معاشی اور مالیاتی محازوں پر قوم کو درپیش مسائل کے حل کیلئے مینڈیٹ کی حامل نمائندہ حکومت ہی اہم اور مشکل فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں؛ صدر عارف علوی کی عمران خان سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
عارف علوی نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر دستخط اہم ہیں، مالی اور اقتصادی مشکلات حل کرنے میں مدد ملے گی جبکہ عوامی مینڈٹ کی حامل حکومت ہی پاکستان کے عوام کو مشکل فیصلوں پر رضامند کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام مالی اور اقتصادی استحکام کے لیے بنیادی اور اہم ترین عنصر ہے جبکہ تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو عام انتخابات کے انعقاد کے لیے متفقہ تاریخ کے تعین کیلئے مذاکرات اور غور و خوض کی بھی ضرورت ہے۔
اس موقع پر صدر مملکت نے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سیاسی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنے کے ارادے کو بھی سراہا۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ سیاسی قوتیں اس موقع سے فائدہ اٹھائیں، قوم کو درپیش مسائل کے حل کیلئے جمہوری طریقہ کار اپنائیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا زیادہ تر درآمدی بل توانائی کی پیداوار اور نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے جبکہ بجلی، پانی اور گیس کے تحفظ کی ایک ہمہ جہت حکمت عملی اپنا کر درآمدی بل کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت کا حکومتی منصوبہ قابل عمل ہے اور کاروباری برادری کے عزم اور تعاون کی ضرورت ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاسی، اقتصادی اور مالیاتی محازوں پر قوم کو درپیش مسائل کیلئے بھی اتفاق رائے پر مبنی حل تلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں؛ قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کے لئے ماہرین کی کمی ہے، عارف علوی
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے کورونا وبا پر صحیح وقت پر درست فیصلے کر کے قابو پایا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین چیمبر آف کامرس خواتین کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے بینکوں سے قرضے حاصل کرنے میں مدد کریں جبکہ پاکستان میں نچلی سطح پر کاٹیج انڈسٹری کو فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے اور کاوباری برادری کام کرنے والی خواتین کو ہراسانی سے پاک ماحول کی فراہمی کیلئے اقدامات کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی شمولیت اور انہیں مالیاتی طور پر بااختیار بنانا پاکستان کی ترقی کیلئے اہم ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خصوصی افراد کو معاشی دھارے میں شامل نہیں کیا گیا جبکہ انہیں فائدہ مند روزگار دینے کی ضرورت ہے۔
عارف علوی نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کی پرائمری سکولوں میں داخلے کی شرح مایوس کن ہے۔
یہ بھی پڑھیں؛ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے، صدر ڈاکٹر عارف علوی
انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پرائمری اسکولوں میں بچوں کے داخلے کی شرح صرف 68 فیصد جبکہ بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش بچوں کے داخلے کی شرح 98 فیصد سے زیادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پرائمری اسکولوں میں بچوں کے داخلے کی کم شرح سنگین صورتحال ہے جبکہ ملک میں ٹرسٹ قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے تاکہ ٹرسٹ کی رجسٹریشن کو آسان بنایا جا سکے۔
اس موقع پر صدر مملکت نے موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کو خوش اسلوبی اور سمجھداری سے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری کے ٹیکس، امپورٹ کلیئرنس اور لائنز آف کریڈٹ کے حوالے سے مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کیلئے مشاورتی عمل شروع کیا جائے۔
