وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کے طویل بریک ڈاؤن پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے بجلی کے طویل بریک ڈاؤن پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کابینہ نے بجلی کے تعطل جیسے واقعات کے تدارک کے لئے جامع حکمت عملی کی تیاری کا حکم بھی دیا۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں توانائی کی بچت کے لئے ملک گیر عوامی آگہی مہم کی منظوری دے دی گئی۔
کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بریک ڈاؤن پر وزیراعظم کی تشکیل کردہ اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، کمیٹی تمام حقائق کا جائزہ لے کر جامع رپورٹ پیش کرے گی۔
کابینہ کو مزید بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کو چلا دیا گیا ہے جبکہ ایٹمی توانائی اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر ایک سے دو روز میں آپریشنل ہونگے۔
یہ بھی پڑھیں؛ وزیر اعظم شہباز شریف کی وطن واپسی، توانائی پر اجلاس طلب
اعلامیے کے مطابق توانائی کی بچت کی عادتوں کو عام کیا جائے گا جبکہ توانائی بچت کیلئے عالمی سطح پر رائج طریقوں کو تعلیمی نصاب میں بھی شامل کیا جائے گا۔
اجلاس میں وفاقی کابینہ نے کہا کہ گزشتہ 7 سال میں پٹرولیم مصنوعات سے متعلق امپورٹ بل دوگنا ہوچکا ہے۔
اس موقع پر وزیر توانائی نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق واقعہ صبح 7 بج کر 34 منٹ پر نارتھ ساﺅتھ ٹرانسمیشن لائن میں فنی خرابی کے باعث پیش آیا جبکہ برقی رو میں اچانک آنے والے اتارچڑھاﺅ اور فریکوئینسی میں تعطل کے باعث سسٹم خودکار طریقے سے بند ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں؛ وزیراعظم شہباز شریف اور گورنر پنجاب کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
وزیر توانائی نے مزید کہا کہ آج صبح 5 بجے تک تمام گرڈ اسٹیشنز کو فراہمی بحال کر دی گئی تھی۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نئی توشہ خانہ پالیسی اور وزارتی کمیٹی کی رپورٹ وفاقی کابینہ میں پیش کی گئی جبکہ کابینہ نے نئی پالیسی میں ترامیم تجویز کر دیں۔
