Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پنجاب میں انتخابات کا شیڈول جاری نہ کرنے پر گورنر کو خط

پنجاب میں انتخابات کا شیڈول جاری نہ کرنے پر گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کو خط لکھ دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گورنر پنجاب کو خط جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق کی جانب سے بھجوایا گیا ہے۔

خط کے متن کے مطابق اسمبلیوں کی تحلیل کے نوے دن میں انتخابات کرانا آئینی تقاضا ہے، پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے باوجود انتخابی شیڈول جاری نہ ہونے سے انتخابی ماحول نہیں بن پایا۔

سربراہ جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے کہا کہ صاف شفاف انتخابات کے لئے انتخابی شیڈول کا اجراء جمہوری اساس ہے۔ آئین کے آرٹیکل 105کے برعکس گورنر بدنیتی کی بناء پر انتخابی شیڈول جاری نہیں کررہے۔

خط میں کہا گیا کہ انتخابی شیڈول میں تاخیر کر کے گورنر اپنے حلف اور آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں۔

اظہر صدیق نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 218 کے سب سیکشن 3 کو مدنظر رکھتے ہوئے گورنر پنجاب انتخابی شیڈول جاری کرے۔

چند روز قبل بھی اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے پنجاب میں الیکشن کی تاریخ مقرر کرنے کیلئے  گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کو خط لکھ دیا تھا۔

اپنے خط میں اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا تھا کہ آرٹیکل 105(3) ،آرٹیکل 224 اور 224 کے تحت صوبے کے گورنر کو صوبائی اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ سے 90 روز کے اندر انتخابات کے لیے تاریخ کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں گورنر پنجاب نے 14 جنوری کو صوبائی ایوان کے تحلیل ہونے کے بعد سے صوبے میں انتخابات کے انعقاد کی تاریخ طے کرنے کے حوالے سے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کے خط کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے انتخابات کب ہونگے؟

الیکشن کمیشن پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے انتخابات اپریل میں کرائے گا جبکہ پنجاب اور کے پی اسمبلی کے انتخابات پر 15 ارب روپے سے زائد کے اخراجات آئیں گے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے انتخابات عام انتخابات سے قبل کرانے پر اخراجات میں 20 ارب روپے کا اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل پر الیکشن کب اور کتنی نشستوں پر ہونگے؟

متعلقہ خبریں

Exit mobile version