تحریک انصاف کے سینیئر رہنما فواد چوہدری کی گرفتاری اور بلاجواز مقدمات بنانے کے معاملے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے فواد چوہدری پر بغاوت کا الزام غیر منصفانہ قرار دے دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ بار نے فواد چوہدری پر بغاوت کا الزام غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسوسی ایشن پہلے ہی فواد چوہدری کی غیر قانونی گرفتاری کی مذمت اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کر چکی ہے، دفعہ 124A، پی پی سی 1860 کے تحت فواد چوہدری پر نام نہاد بغاوت کا الزام لگانا غیر منصفانہ اور بلاجواز ہے۔
سپریم کورٹ بار نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔ ہر شہری آرٹیکل 4 کے تحت منصفانہ ٹرائل کے ساتھ ساتھ باوقار سلوک کا بھی مستحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری کا چہرہ کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگائی گئیں، ایسا طرز عمل آئین کے آرٹیکل 10-A اور آرٹیکل 14 کے ساتھ پڑھے گئے آرٹیکل 4 کے تحت ضمانت دیے گئے بنیادی حقوق کی سنگین توہین اور خلاف ورزی سے کم نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں؛ فواد چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد
سپریم کورٹ بار نے کہا کہ ان کی گرفتاری اور عدالتوں میں پیشی کے تمام واقعات سے اندیشہ ہے کہ ان کے ذاتی وقار کو مزید مجروح کیا جا سکتا ہے، خدشہ ہے فواد چوہدری کو حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ حکومت ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور اس بار ایسوسی ایشن کے ممبر کے وقار کی بے عزتی اور تذلیل کرنے کے اس مضبوط عزم سے چشم پوشی نہ کرے، ایسے کسی بھی غیر قانونی عمل کا پوری قانونی برادری کی طرف سے سختی سے جواب دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس طرح کے ظلم و ستم میں ملوث ہونے سے گریز کرے۔
سپریم کورٹ بار کا فواد چوہدری کی فوری رہائی کا مطالبہ
گزشتہ روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے رہنما تحریکِ انصاف فواد چوہدری کی غیرقانونی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں سابق وفاقی وزیرفواد چوہدری کی غیر قانونی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار نے فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا۔
سپریم کورٹ بار کے اعلامیے میں کہا گیا کہ فواد چودھری سابق وفاقی وزیر اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رکن ہیں۔ سپریم کورٹ بار کو ان کی گرفتاری پر گہری تشویش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فواد چوہدری کے ساتھ دہشتگردوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، عمران خان
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ فواد چوہدری کے ساتھ بدسلوکی اور ہتھکڑیاں لگانا توہین آمیز رویہ ہے، آئین پاکستان ہر فرد کو شفاف ٹرائل اور حسن سلوک کی ضمانت دیتا ہے۔
سپریم کورٹ بار کے اعلامیے کے مطابق اُن کی گرفتاری کی وجوہات نامعقول ہیں جن کا کوئی قانونی جواز نہیں، سابق وفاقی وزیر کی گرفتاری اختیارات کے ناجائز استعمال اور سیاسی انتقام کی واضح مثال ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ سیاسی مخالفین کی آواز دبانے کی روایت کو ختم ہونی چاہیے، آرٹیکل 19 ہر شہری کو آزادی اظہار کے یکساں مواقع فراہم کرتا ہے، اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
