سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے پارٹی عہدے سے استعفے کے معاملے پر انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی بات مان لی۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف سے گزشتہ روز شاہد خاقان عباسی کی طویل ون آن ون ملاقات ہوئی۔
ذرائع نے بتایا کہ ملاقات کے دوران سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے توانائی بچت کمیٹی اور اصلاحاتی کمیٹیوں سے مستعفیٰ نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔
ن لیگ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے ملاقات کے بعد توانائی کی قومی بچت پالیسی سے متعلق اجلاس میں بھی شرکت کی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ شاہد خاقان نے پارٹی امور سے متعلق اہم فیصلوں پر اعتماد میں نہ لینے کا شکوہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شاہد خاقان عباسی نے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دیدیا
واضح رہے کہ شاہد خان عباسی نے پارٹی سنئیر نائب صدر سے استعفی دے دیا تھا، شاہد خاقان عباسی کافی عرصے سے پارٹی پالیسوں سے نالاں تھے۔
ن لیگ کے ذرائع نے بتایا تھا کہ مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کی پارٹی سے ناراضگی طول پکڑ گئی، ملکی اور پارٹی کے بڑے فیصلوں انکو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔
شاہد خاقان عباسی کا پیغام
ذرائع کے مطابق اس حوالے سے شاہد خاقان عباسی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پارٹی عہدے کا کوئی لالچ نہیں، عہدہ چھوڑنا چاہتا ہوں، پارٹی کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔
ذرائع نے بتایا کہ شاہد خاقان نے کہا ہے کہ مریم نواز کے چیف آرگنائزر بنے پر استعفی دیا ہے اور مفتاح اسماعیل کو وفاقی وزیر خزانہ ہٹانے پر بھی اعتراض تھا۔ سنیئر رہنماؤں کی مشاورت کے بغیر مریم نواز کو عہدہ دیا گیا۔
علاوہ ازیں شاہد خاقان عباسی کا استعفیٰ پارٹی صدر شہباز شریف کو موصول ہوگیا تھا۔
اس حوالے سے ذرائع نے بتایا تھا کہ پارٹی صدر شہباز شریف نے استعفیٰ قبول نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شاہد خاقان عباسی کے پارٹی عہدے سے مستعفی ہونے کی تصدیق
