پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ملک سے زرمبادلہ کی باہر منتقلی اور اربوں ڈالر سالانہ بچانے کیلئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم نے پی ایس او کو تیل منگوانے کیلئے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے کارگوز استعمال کرنے کی تجویز کر دی۔
قائمہ کمیٹی نے معاملے پر ذیلی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
چیئرمین اوگرا کہتے ہیں پیٹرول بڑھنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے، اگر پی ایس او تھرڈ کمپنیوں کے بجائے پی این ایس سی سے پیٹرول ڈیزل منگوائے تو حالیہ بڑا اضافہ نہ ہوتا قائمہ کمیٹی ارکان بھی اوگرا کی تجویز سے متفق نظر آئے۔
نیشل شپنگ کارپوریشن حکام کا کہنا ہے کہ پی ایس او تھرڈ پارٹی سے کارگوز منگواتا ہے جس پر سالانہ اربوں ڈالر کا کرایہ ادا کرنا ہوتا ہے۔
پی ایس او نے موقف اپنایا کہ نیشنل شپنگ کارپورشن کے معاہدہ 2015 میں تیل بحران کے بعد ختم کیا، سندھ میں گزشتہ سال گیس پریشر میں کمی کی وجہ بڑی کمپنیوں کی جانب سے غیر قانونی کمپریسر کا استعمال تھا۔
حکام کہتے ہیں ملوث کمپنیوں پر ڈیڑھ ارب کا اضافی بل ڈالا گیا۔
قائمہ کمیٹی نے پی ایس کا تیل خریداری کے معاملے پر ذیلی کمیٹی تشکیل دی جن کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں دس فیصد گیس بل دیا جا رہا ہے، سندھ میں بھی تین سو ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد کا شارٹ فال ہے۔
