Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جیل بھرو تحریک میں خودگرفتاری دونگا،عمران خان

 سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جیل بھرو تحریک میں خودگرفتاری دونگا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بول نیوز سمیت دیگر صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مائنس عمران خان پالیسی چل رہی ہے، نوازشریف کو واپس لانےکیلئے مجھے نااہل کروانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ کی پہچان میں غلطی ہوئی، جنرل باجوہ کوایکسٹینشن دینا زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ٹیریان کیس میں لارجر بنچ کا بننا میرے لئے اچھا ہے، ابھی تک کسی سےکوئی رابطہ نہیں ہے، اگرکوئی بات چیت کیلئےآیا تو بتاؤں گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مکمل صحتیاب ہونےکیلئے2 ہفتے لگیں گے، صحیت یاب ہونے کے بعد جیل بھرو تحریک کو لیڈ کرونگا اور جیل بھرو تحریک میں خودگرفتاری دونگا۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ یہ میرے ہاتھ پیر باندھ کر الیکشن میں جانا چاہتے ہیں جبکہ آئینی طور پر الیکشن 90 روز میں ہوتے ہیں، اس پر عملدر آمد متعلقہ اداروں نےکروانا ہے۔

واضح رہے گزشتہ روز چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے  ‘جیل بھرو تحریک ‘ کے حوالے سے اہم ترین ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ انتخابات 90 دن سے آگئے گئے تو جیل بھرو تحریک کا آغاز کردوں گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت نے آئین اور قانون کی دھجیاں اڑادیں اور اب ایسے حالات ہوگئے ہیں کہ پولیس بھی عدالت کی نہیں سنتی۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہم کیوں’ جیل بھرو تحریک ‘کا آغا زکر ناچاہتے ہیں، ساری دنیا میں قومیں  کسی قانون کے تحت چلتی ہیں آئین  فیصلہ کرتا ہے کہ  کون سی چیز جائز ہے اور کون سی چیز  ناجائز ہے لیکن جب سے یہ امپورٹڈ حکومت آئی ہے اس ملک کے آئین  اور قانون  کی دھجیاں اڑائی  گئی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ حالات یہ ہیں  کہ عدالتوں کے احکامات  نہ پولیس سنتی ہے نہ یہ ریاست سنتی ہے، جب یہ امپورٹڈ حکومت اسلام آباد کے ضمنی انتخابات سے بھاگ رہی تھی تو عدالت نے کہا کہ 48 گھنٹوں میں  الیکشن کرواؤ تاہم تقریباً  مہینہ  گزر چکا ہے لیکن ابھی تک الیکشن نہیں کروائے گئے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہمارا آئین بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کرتا ہے  لیکن ہمارے لوگوں کو صرف ایک ٹویٹ کرنے پر  اٹھایا  گیا ان پر تشدد کیا گیا، ابھی تک بہت سے لوگوں کا تشدد کی وجہ سے ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہو سکا ، اعظم سواتی کے ساتھ جو کچھ ہوا کونسا قانون ایک ٹویٹ کرنے پر اس طرح  تشدد کی اجازت دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور پرویزالٰہی کا حکومت کے منفی ہتھکنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار

عمران خان نے کہا کہ اس کو دوبارہ گرفتار کیا جاتا ہے اور 30 کے  قریب ایف آئی آرزبلوچستان اور سندھ میں  درج کی جاتی ہیں، شیخ  رشید کو ضمانت کے باوجوداٹھا کر لے جاتے ہیں اور  اس پر   مقدمے  کر دیتے ہیں، عدالت چار مرتبہ آئی جی کو  فواد چوہدری کو  پیش کرنے کا حکم دیتی ہے لیکن یہ اسلام آباد لے جاتے ہیں، شہباز گل پر حراستی تشدد کیا گیا اور اس کے بعد  پھر سے  ڈرایا دھمکایا گیا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ25  مئی کو پُرامن احتجاج پر تشدد کیا گیا ، کونسا قانون جمہوریت میں اس کی اجازت دیتا ہے، پی ڈی ایم نے ہمارے دور میں تین لانگ مارچ کیے لیکن کسی پر سختی نہیں کی گئی، یہ صرف چند مثالیں ہیں کہ  اس قوم کا  عتماد  ملک کے آئین اور قانون سے اٹھتا جا رہا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ آئین جو کہ  جمہوریت کی بنیاد ہے ا سمیں واضح درج ہے کہ 90 روز میں انتخابات کروائے جائیں، ہم نے صرف آئین کو سامنے رکھتے ہوئے  اسمبلیاں تحلیل کیں  تاکہ ملک الیکشن کی جانب بڑھ سکے، ملک ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہےاور جب تک سیاسی استحکام  نہیں آئے گا معیشت نہیں ٹھیک ہو سکتی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے اپنی دو حکومتوں کی قربانی دی صرف اسلیے کہ  آئین 90 روز میں الیکشن  کا حکم دیتا ہے ، تقریباً 25 روز گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک الیکشن کی کوئی  تاریخ نہیں دی گئی جو کہ آئین کی صریح  خلاف ورزی ہے، اگر یہ 90 روز سے تجاوز کرتے ہیں تو آئین بالکل واضح ہے کہ ان پر آرٹیکل 6 لگے گا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version