Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

صوبائی اسمبلیوں میں انتخابات کا معاملہ، پی ٹی آئی رہنماؤں کی حکومت پر تنقید

صوبائی اسمبلیوں میں انتخابات کے متعلق پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے ردعمل پیش کیا گیا ہے جس میں حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مسرت چیمہ :

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے صوبہ پنجاب میں انتخابات کرانے کے فیصلے پر مسرت چیمہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عدالتی فیصلے سے امپورٹڈ ٹولے کے انتخابات سے فرار کے تمام راستے بند ہو گئے ہیں۔

 

انہوں نے کہا ہے کہ یہ لوگ چاہے کچھ بھی کرلیں عوام کی عدالت میں ہر صورت پیش ہونا پڑے گا جبکہ انہوں نے تو نو ماہ میں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دی ہیں، پھر عوام میں جانے سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

فواد چوہدری:

سابق وفاقی وزیر اور رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں پی ڈی ایم حکومت کو دوام دینے کیلئے معاشی ایمرجنسی لگانے کی گفتگو ہو رہی ہے اور ایسا ہوا تو اس کے شدید سیکیورٹی اثرات مرتب ہوں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ ملک کے مستقبل سے کھیلنا بند ہونا چاہئے کیونکہ ایسی احمقانہ پالیسیوں پر ضد کر کے ملک کی سالمیت کو داؤُپر لگایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ  ملک میں انتخابات کروا کے حکومت منتخب لوگوں کو ٹرانسفر کی جائے۔

فیصل جاوید:

فیصل جاوید نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت کی یہ بات مناسب ہے کہ پورے ملک میں انتخابات ایک ساتھ ہوں لیکن خیبرپختونخوا اور پنجاب میں تو اسمبلی تحلیلی کے بعد 90 دن کے اندر اندر انتخابات ہو رہے ہیں، لہذا قومی اسمبلی اور دیگر دو صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کرکے پورے پاکستان میں عام انتخابات کا اعلان کیا جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ باہمی مشاورت – بات چیت سے تاریخ کا تعین کیا جا سکتا ہے – جمہور اور جمہوریت کی بہتری اسی میں ہے، ملک میں آج جو معاشی بحران ہے اسکو سیاسی استحکام سے ختم کیا جا سکتا ہے جس کا واحد حل فوری قومی انتخابات ہیں۔

حسان خاور:

حسان خاور نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صوبائی الیکشن کے التوا کی کوشش ناکام ہو چکی ہے اور پی ڈی ایم کی مقبولیت بدترین سطح پر ہے جس کی وجہ سے مزید سیاسی غلطیاں بہت مہنگی پڑیں گی۔

 

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے نئے طوفان کی آمد آمد ہے تاہم فوری جنرل الیکشن ہی اب واحد قابل عمل حل ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری ذاتی رائے میں قومی و صوبائی انتخابات ایک وقت میں کروانا بہتر ہے لیکن ان کو اکتوبر تک ملتوی کرنا ممکن نہیں ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ایک ہی حل ہے کہ 3 سے 4 مہینے میں الیکشن کی تاریخ دیں ، اپوزیشن کو رضامند کر کے آئینی ترمیم لائیں اور معاشی اصلاحات پر قومی اتفاق رائے قائم کریں اور ملک کو سنبھلنے دیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version