عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جانب سے پاکستان کے ساتھ جوہری توانائی سے متعلق مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل مریانو گروسی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور آئی اے ای اے کے درمیان صحت، زراعت و صنعت، نیوکلیئر میڈیسن اور پاور جنریشن میں تعاون پر بات چیت کی گئی۔
وزیراعظم نے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آئی اے ای اے کے مختلف منصوبوں میں مکمل تعاون اور حمایت کرے گا، پاکستان ایجنسی کے ساتھ تعاون کے فروغ کا خواہش مند ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے ایجنسی کو پاکستان کی ایٹمی توانائی کے شعبے میں مہارت اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی اور ایٹمی توانائی کمیشن کے 19 کینسر اسپتالوں کے کلیدی کردار پر بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ اسپتال عام لوگوں کو ارزاں نرخوں پر خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں زیادہ پیداوار اور خشک سالی سے محفوظ رہنے والی فصلوں پر تحقیق کے لیے ایجنسی کو تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب ڈی جی آئی اے ای اے نے کہا کہ کینسر کے علاج کے حوالے سے ایجنسی کے امید کی کرن اقدام میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ڈی جی آئی اے ای اے نے زراعت میں تحقیق کے حوالے سے پاکستانی اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔
ترجمان وزیراعظم آفس کے مطابق ڈائریکٹر جنرل مختلف جوہری سہولیات، کینسر اسپتالوں اور زرعی تحقیقی مراکز کا دورہ کریں گے، ڈائریکٹر جنرل پاکستان میں بہترین جوہری تحفظ اور سکیورٹی کا بھی مشاہدہ کریں گے۔
ڈی جی عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی وزیر خارجہ سے ملاقات
اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری سے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈی جی رفائیل ماریانوگروسی کی ملاقات ہوئی تھی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
ملاقات میں وزیر خارجہ نے اٹامک انرجی کو صحت، زراعت، صنعت اور بجلی کے شعبے میں استعمال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
دوسری جانب ڈی جی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے پاکستان کی نیوکلیئر صلاحیتوں کو سراہا۔
واضح رہے کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈی جی رفائیل ماریانو گروسی پاکستان کے 2 روزہ دورے پر اسلام آباد میں ہیں۔
