Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

صدر کا الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط غیر آئینی ہے، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت کا الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت سیاسی صورتحال پر اجلاس منعقد ہوا جس دوران وزیر اعظم نے رہنماوں کو صدر کو خط لکھنے پر اعتماد میں لیا۔

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صدر کا الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط غیر آئینی ہے تاہم صدر غیر آئینی کاموں سے باز رہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکش کمیشن خودمختار ادارہ ہے، اس کا جو بھی فیصلہ ہوگا حکومت عمل کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت کو الیکشن تاریخ پر الیکشن کمیشن سے مشاورت کرنا چاہیے تھی، امین الحق

اس موقع پر اجلاس میں سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر قانونی ٹیم نے بریفنگ دی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی خود کو ن لیگ سے متعلق کیسز سے الگ کرلیں۔

اس معاملے پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت عدالتوں کا احترام کرتی ہے۔

انہوں نے عمران خان کی جیل بھرو تحریک کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی برائے نام جیل بھرو تحریک ناکام ہوچکی ہے، عوام تحریک انصاف کے یوٹرنز کو جان چکی ہے، انہوں نے انتشار کی سیاست کو رد کردیا ہے۔

خیال رہے کہ صدر مملکت نے الیکشن ایکٹ 2017 ء کے سیکشن 57 ایک کے تحت 9 اپریل بروز اتوار پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلیوں کیلئے انتخابات کا اعلان کردیا ہے۔

اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون 90 دن سے زائد کی تاخیر کی اجازت نہیں دیتا  ہے تاہم آئین کی خلاف ورزی سے بچنے کیلئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اپنا آئینی اور قانونی فرض ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ اسمبلیوں کے عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کیلئے الیکشن کمیشن سے مشاورت کا سنجیدہ عمل شروع کیا لیکن الیکشن کمیشن نے اس موضوع پر ہونے والے اجلاس میں شرکت سے معذرت کی تاہم سیکشن 57 (1) کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات کے لیے 9 اپریل 2023 ء (اتوار) کی تاریخ کا اعلان کررہا ہوں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version