وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انتظامیہ کو ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ مون سون سے پہلے نالوں کی صفائی کا کام مکمل کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت پراونشل کوآرڈینیشن اینڈ امپلی مینٹیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کمشنر کراچی نے بریفنگ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے 3 نالوں کی صفائی ہو چکی ہے جن میں محمود آباد نالا، جگر نالاور اورنگی نالا شامل ہیں۔
کمشنر کراچی نے کہا کہ 509.7 ملین روپے تجاوزات کے خلاف آپریشن پر خرچ ہوئے 1.48ملین روپے کرائے پر خرچ ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ گجر، محمود آباد اور اورنگی نالوں کے متاثرین پہلے 6258 تھے، اب 674 متاثرین بڑھ کر 6932 ہو گئے ہیں۔
اجلاس نے 674 مزید متاثرین کو معاوضہ دینے کی منظوری دے دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے نالوں کی صفائی 93 فیصد مکمل ہے، ایک بلین روپے کی مزید ضرورت ہے تاکہ باقی نالوں کے سول ورکس مکمل ہو جائیں۔
لوکل گورنمنٹ کو وزیر اعلیٰ سندھ نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سمری ارسال کریں فنڈ جاری کر دیے جائیں گے، نالوں کی صفائی ہر سال کی جائے اور اس کے لیے فنڈز بجٹ میں رکھے جائیں، مون سون سے پہلے نالوں کی صفائی اور لائن کرنے کا کام بھی مکمل کیا جائے۔
بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ کے فور منصوبے پر کام شروع ہو گیا ہے، واپڈا نے 650 ایم جی ڈی کا اسٹیکچر کینجھر پر تعمیر کرنا ہے، 650 ایم جی ڈی کا گریوٹی چینل پمپنگ کامپلیکس تک بنانا ہے، 130 ایم جی ڈی کی 2 پمپنگ اسٹیشنز تعمیر کرنے ہیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ تین ریزرو اور فلٹریشن پلانٹ تعمیر ہونے ہیں، سندھ حکومت ڈسٹریبیوشن سسٹم، 50 میگاواٹ پاور سپلائی اور لینڈ کے مسائل حل کرنے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تقریباً کاموں کے کانٹرینٹ ایوارڈ ہو چکے ہیں، اس وقت تک بیشتر کاموں پر 10 فیصد کام کی پیش رفت ہوئی ہے، ابھی تک 23.1 بلین روپے جاری ہو چکے ہیں، 45 بلین روپے مختلف کاموں پر خرچ ہو چکے ہیں، پروجیکٹ کیلئے 43.2 بلین روپے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے اس موقع پر کہا کہ وفاقی حکومت کو 43 بلین روپے جاری کرنے کیلئے درخواست بھیجی جائے گی، اراضی کے جو معاملات ہیں وہ سندھ حکومت جلد حل کر دے گی۔
اجلاس میں صوبائی وزرا، سعید غنی، شرجیل میمن، ناصر شاہ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، معاون خاص قاسم نوی، کورپس کمانڈر کراچی لیفٹننٹ جنرل بابر افتخار ، چیف سیکریٹری سہیل راجپوت، ڈائریکٹر جنرل این ایل سی میجر جنرل فرخ شہزاد، صوبائی سیکریٹریز، واپڈا، ایف ڈبلیو او اور دیگر اداروں کے متعلقہ افسران شریک ہوئے۔
