ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر مذاکرات کے لیے پاکستانی وفد جلد ایران جائے گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان جلد ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر مذاکرات کے لیے وزارت توانائی کے حکام پر مبنی ایک خصوصی وفد ایران بھیجے گا۔
ذرائع وفد میں وزارت خزانہ اور وزارت خارجہ کے حکام کی شمولیت بھی متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تاپی گیس پائپ لائن اور کاسا 1000 توانائی منصوبہ ملتوی
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وفد ایران میں آئی پی گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل میں تاخیر سے جرمانے پر ایرانی حکام سے بات چیت کرے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو آئی پی گیس پائپ لائن کا اپنا کام آئندہ برس فروری-مارچ تک مکمل کرنا ہے بصورت دیگر معاہدے کی خلاف ورزی پر پاکستان کو 18 ارب امریکی ڈالرز کا جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں ایران گیس سیلز پرچیز ایگریمنٹ کی جرمانے کی شقوں کے کے تحت کارروائی کا حق رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایل این جی گیس پائپ لائن منصوبے پر پاک روس تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور ختم
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کو دسمبر 2014 تک مکمل اور یکم جنوری 2015 سے فعال ہونا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جرمانے کی شقوں کے مطابق پاکستان کو تکمیل نہ کرنے پر جنوری 2015 سے 10 لاکھ ڈالر یومیہ ادا کرنے تھے تاہم ایران کی جانب سے پاکستان کو رعایت دی گئی۔
