Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

حکومت خسارے پر قابو پانے اور معیشت کو درست سمت پر گامزن کرنے میں کوشاں ہیں، اسحاق ڈار

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت خسارے پر قابو پانے اور معیشت کو درست سمت پر گامزن کرنے میں کوشاں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ کے زیر اہتمام پبلک فنانشل منیجمنٹ پر سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ترقیاتی شراکت داروں کا شکر گزار ہوں، اس سیمینار کی اہمیت اس لئے بھی ہے کیونکہ حکومت آئندہ بجٹ کی تیاری کا آغاز کرے گی، حکومت کو وراثت میں ملے بحرانوں کا سامنا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت خسارے پر قابو پانے اور معیشت کو درست سمت پر گامزن کرنے میں کوشاں ہیں، چند سالوں میں مالیاتی بدانتظامی کی وجہ سے پاکستان کی معیشت بحران کا شکار ہوئی، 2016-2017 میں پاکستانی معیشت دنیا کی 24 ویں معیشت تھی، 2018 میں عالمی اداروں نے پاکستان کو سرمایہ کاری کیلئے دوسرا بہترین ملک قرار دیا تھا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن کو گزشتہ چند سالوں میں 74 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، 2018 سے 2022 تک فی کس آمدنی میں صرف 30 ڈالر کا اضافہ ہوا، 2013 سے 2018 تک فی کس آمدنی 379 ڈالر سے 1068 ڈالر ہوئی، ملک پر قرضوں کا حجم 25 ہزار ارب روپے تھا اور 55 ہزار ارب تک پہنچ گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت نے قرضوں پر ادائیگیاں کی، قرضوں کی ادائیگی نہ کرتے تو ترقیاتی شراکت داروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتا، گزشتہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی یقین دہانیوں کو موجودہ حکومت نے پورا کیا، پاکستان نے ایک ہی آئی ایم ایف پروگرام مکمل کیا ہے جو کہ 2016 میں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے فنڈز کی ضرورت تھی، ملک سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے 3200 ارب روپے اپنے وسائل سے خرچ کرے گا، وزیر اعظم نے حال ہی میں کفایت شعاری کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق وزرات خزانہ نے ضروری نوٹیفیکیشن جاری کردیے ہیں۔

اسحاق دار نے کہا کہ پاکستانی معیشت سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، معیشت سے متعلق دیوالیہ ہونے کے پروپیگنڈے میں کوئی صداقت نہیں ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ میثاق معیشت کریں، اس میثاق معیشت میں کوئی بھی تبدیلی نہ کرے، سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میثاق معیشت کو خوش آمدید کہتا ہوں، ہم جن عہدوں پر ہیں امین ہیں عوام اور اللّٰہ کو جوابدہ ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آنے والے بجٹ کو صنفی مساوات کی بنیاد پر بنایا جائے گا جس میں ہر صنف کا خیال رکھا جائے گا، ماضی میں بحرانوں میں گھری معیشت کو ٹریک پر لایا، 1998-99 اور 2013 میں سخت معاشی حالات تھے، فروری 2013 میں ملک کے دیوالیہ ہونے کی پیش گوئی کی گئی تھی، اس کے بعد معیشت کو بہتر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جولائی 2013 میں آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا، موجودہ حالات میں مہنگائی کا دباؤ زیادہ ہے، توانائی کے شعبے میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کرنے کیلئے اہم فیصلے کئے گئے، زرعی شعبے کی پیداوار بڑھانے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں، توانائی کے شعبے کے مسائل حل کرنے تمام اسٹیک ہولڈرز کام کررہے ہیں، ہم نے کئی کام کرلیے اور بہتری کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ غلط سیاست نہ کریں ٹی وی پر بیٹھ کر پروپیگنڈا نہ کریں، پاکستان مشکل حالات میں ضرور ہے لیکن دیوالیہ نہیں ہو گا، پاکستان میں ایڈونچر کیا گیا اور پاکستان کو 24 ویں سے 47 ویں معیشت تک پہنچا دیا، موجودہ مشکل وقت بھی جلد گزر جائے گا، معاشی ٹیم سخت محنت کر رہی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ماضی کی تجربات کے مقابلے میرے لیے یہ زیادہ مشکل حالات ہیں، بجلی کی پیداواری لاگت 3 ہزار ارب روپے ہے، صرف 1600 ارب روپے کے قریب وصولی ہو رہی ہے، بطور ملک اور قوم آگے بڑھنے کے قابل ہو گئے ہیں۔

ضرور پڑھیں؛ آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ اس ہفتے بھی نہ ہونے کا امکان

 

متعلقہ خبریں

Exit mobile version