وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حالات خراب نہیں ہیں لیکن خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز زلزلے میں ہونے والے نقصان پر دکھ کا اظہار کرتا ہوں، فوجی شہداء خصوصا ایک سینیئر افسر نے دہشتگردی کے خلاف لڑتے ہوئی جام شہادت نوش کیا، پوری قوم اپنے شہداء پر فخر کرتی ہے، جہاں نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا آفیسر بھی ان کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی ملک و قوم کی رہنمائی کرتی ہے اور اس سے بالاتر کوئی ادارہ نہیں، تمام اداروں کا اپنا اپنا آئینی کردار ہے جو پارلیمنٹ کے مرہون ملت ہے، پارلیمنٹ نے طے کیا ہے کہ کون سا ادارہ کیا کام کرے گا، پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار بھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن پر آراء پر پارلیمنٹ کو رہنمائی کا حق حاصل ہے، پارلیمنٹ کسی ادارے کا کام بڑھا بھی سکتا ہے اور کم بھی کر سکتا ہے، تین بنیادی نقاط پر پارلیمنٹ بات کر کے رہنمائی کرے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سیاسی انتظامی اور عدالتی بحران پیدا کیا گیا ہے اور مسلسل اضافے کی کوشش ہو رہی ہے، اضافے پر دھیان دیں تو ایک ہی شخصیت پر جا کر بات پہنچتی ہے جبکہ حالات خراب نہیں ہیں مگر خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک جماعت اور اس کا لیڈر عمران خان نیازی دس سالوں سےافراء تفری اور انار کی کوشش کر رہا ہے، 126 دن کا دھرنا دیا ہے، 2018 تک مسلسل لانگ مارچ یا احتجاج کیا جاتا رہا ہے، اس بندے نے کبھی ایک ہفتہ بھی سکون سے نہیں گزارا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپوزیشن میں حکومت کے خلاف اور حکومت میں آنے کے بعد اپوزیشن کے خلاف احتجاج شروع کر دیا، چارٹر آف معیشت کی دعوت دی گئی، پونے چار سال سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور ملک کا بیڑا غرق کیا گیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران حکومت کے آئی ایم ایف معاہدے کو پورا کرتے کرتے مہنگائی اس نہج پر پہنچی ہے، آئی ایم ایف کہہ رہا پہلے شرائط پورا کریں پھر معاہدہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے سیاسی اور انتظامی بحران پیدا کرنے، افراتفری اور انارکی پھیلانے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی، یہ ایک فتنہ ہے، قوم نے اس کی شناخت نہ کی تو ملک کو تباہ کر دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو امپورٹڈ کہا گیا، اس پر احتجاج ہوتا رہا، اسلام آباد کو بند کرنے اور سیل کرنے کی دھمکیاں دی گئی، 25 مئی کو جتھہ لیکر اسلام آباد پر چڑھائی کی گئی، کوشش کی گئی کہ ملک ڈیفالٹ کر جائے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاسی عدم استحکام تک معاشی استحکام نہیں آئے گا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اسمبلیاں توڑنے کے بعد 90 روز میں الیکشن کرانے کی پابندی ہے، 30 اپریل کو پنجاب میں الیکشن 90 روز کی پابندی سے باہر ہے جبکہ یہ 14 سے 18 مارچ تک لاہور میں زمان پارک مورچہ لگا کر بیٹھے رہے، وہاں شرپسند اور مسلح افراد کو رکھا گیا، زمان پارک میں پیٹرول بم، غلیلیں وغیرہ جمع کی گئی، کہا گیا کہ زمان پارک میں پولیس گرفتاری کے لیے گئی، اس ایریا میں کوئی مسلح اہلکار نہیں گیا، اس علاقے کو کلیئر کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران 68 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، پولیس کی جانب سے ایک بھی گولی نہیں چلائی گئی، 18 تاریخ کو زمان پارک کے علاقے کو کلیئر کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک 316 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا، 18 مارچ کو عمران خان ایک جتھے کے ساتھ اسلام آباد آئے، لوگوں کو ٹکٹس کا کہہ کر کالز کر کے بندوں کو ساتھ لانے کا کہا گیا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان پر قائم مقدمات کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، ٹیریان وائٹ کے کیس میں اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، یہ عدالتوں میں پیش ہونے سے گریزاں ہے، اس پراسس کو مسلح لوگوں اور جتھوں کو لیکر آرہا ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان دور میں ملک کو بحران سے دوچار کرنے کیلئے گھٹیا اقدامات کئے گئے، گیارہ ماہ میں امریکی سائفر کا پراپیگنڈہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی، انتظامی اور عدالتی بحران ہے، الیکشن کے انعقاد پر مختلف آراء ہیں، الیکشن کے انعقاد پر پارلیمنٹ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 25 مئی 2022 کو عمران خان نے کارکنان کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کی تھی، عمران خان نے کے پی اور جی بی پولیس کے زریعے اسلام آباد پر چڑھائی کی، قوم نے عمران خان کے افراتفری والے ایجنڈے کے ساتھ کھڑے ہونے سے انکار کیا، عمران خان نے گزشتہ سال نومبر میں اہم تعیناتی کا معاملہ سبوتاژ کرنے کی کوششیں کیں۔
رانا ثناءاللہ نے کہا کہ عمران خان زمان پارک میں مورچہ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، زمان پارک میں دہشتگرد، کالعدم تنظیموں کے مسلح لوگ موجود تھے، زمان پارک میں غلیلیں، بنٹے، پتھر اکٹھے کئے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں پیشی کے موقع پر توڑ پھوڑ کی گئی، توشہ خانہ کیس میں پیشی پر پولیس فورس پر حملے کئے گئے، عمران خان کی پیشی کے موقع پر اینٹی رائٹ فورس تعینات تھی، اینٹی رائٹ فورس کے اہلکار غیر مسلح ہوتے ہیں، عمران خان پیشی پر حملہ کرنے والے 316 لوگ گرفتار کئے جا چکے ہیں، پی ٹی آئی کے گرفتار لوگوں کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
