Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہمارے صوبے میں سرکاری نوکریاں کم ہیں ، وزیراعلیٰ بلوچستان

وزیراعلیٰ بلوچستان عبد القدوس بزنجو نےکہا ہے کہ ہمارے صوبے میں سرکاری نوکریاں کم ہیں اور صنعتیں بھی نہیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبد القدوس بزنجو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان آدھا پاکستان ہے لیکن ہمیں این ایف سی ایوارڈ کے تحت اتنے فنڈز نہیں ملتے کہ ہم لوگوں کے مسائل حل کر سکیں، محدود فنڈز کے حامل بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابر لانا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی وفاق میں نئی حکومت آتی ہے بلوچستان کی پسماندگی کی بات کی جاتی ہے، بدقسمتی سے پسماندگی کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات نہیں کئے جاتے، اختیار و اقتدار رکھنے والوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ باقی صوبے آگے گئے تو بلوچستان کیوں پیچھے رہ گیا۔

عبد القدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی غربت اور پسماندگی کی بنیادی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی اور عدم توجیحی ہے۔یہ وہ صوبہ ہے جو آدھا پاکستان ہونے کے باوجود پسماندہ بھی ہے، این ایف سی ایوارڈ میں جو شئیر  ہمیں ملتا ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آدھے پاکستان کو سکیورٹی دینا ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس پر ہمارے وسائل کے 40 فیصد فنڈز خرچ ہو جاتے ہیں اور اگر ہم یہ سیکیورٹی برقرار نہ رکھیں تو اسکا اثر دیگر صوبوں پر بھی پڑے گا۔

عبد القدوس بزنجو نے کہا کہ یہ وہ حقائق ہیں جن سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی اور انہیں سنجیدگی سے دیکھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے، جن لوگوں کو عوام نے منتخب کیا ہے ہمیں ان کا حق نہیں مارنا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی مخالفت اپنی جگہ لیکن منتخب نمائندے کو انکے علاقے کی ترقی کا حق ملنا چاہیے، ہم سب کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ پورے بجٹ سیشن میں کوئی مخالفت نظر نہیں آئی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ میرا طریقہ کار اور لوگوں سے ملنا جلنا ایک الگ انداز کا ہے، میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہر وقت کھڑا ہوتا ہوں۔ہم اپنی حدود میں رہتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق اپنا حق مانگ رہے ہیں، ہمیں غلط نظر سے نہ دیکھا جائے ہر صوبہ اپنا حق مانگتا ہے ہم بھی مانگ رہے ہیں

عبد القدوس بزنجو کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے دو ٹوک اور ٹھوس موقف سے بہت سی چیزیں بہتر ہوئی ہیں جنہیں ہم تسلیم بھی کرتے ہیں۔2015 سے پی پی ایل کے تعطل کا شکار معاملات میں پیش رفت کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقیاتی مد میں ہمیں 120 ارب روپے دستیاب ہوتے ہیں، اگر ترقیاتی فنڈز میں 300 ارب روپے تک اضافہ کیا جائے تو صوبے اور عوام کی بہتری کے لیے اچھا کام ہوگا

وزیراعلیٰ بلوچستان نے یہ بھی کہا کہ ریکوڈک کے معاہدے پر تمام پارٹیوں کو آن بورڈ لیا اور حل بھی مل کر تلاش کیا ، ہم نے یہ سوچا کہ اس مسئلے کو سب کے سامنے رکھا جائے، ریکو ڈک معاہدے کو سامنے لانے کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو یہ احساس نہ ہو کہ ہم کوئی چوری کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم جو بھی مانگتے ہیں مالک کائنات سے مانگتے ہیں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے ہیں، وزیراعظم نے سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کے لیے 10 ارب روپے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی ہمیں نہیں ملے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اپنے پاس بھی وسائل کم تھے لیکن ڈونر ایجنسیوں نے اس موقع پر ہمارا خوب ساتھ دیا، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے اپنی بساط کے مطابق اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ مالک کائنات سے بھی رجوع کرتے ہیں۔

عبد القدوس بزنجو کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم سب کو ساتھ لے کر چلنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، آج مالک کائنات نے اگر اقتدار پر بٹھایا ہے تو میں سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں،آواران اور دیگراضلاع کا بجٹ برابر ہے۔میری سوچ ہے کہ سیاسی مخالفین کے حلقوں کو بھی اتنے ہی فنڈز ملیں جتنے کہ آواران کو ملیں، ہم نے باپ پارٹی اس لیے بنائی کہ بلوچستان کے فیصلے بلوچستان میں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں زرداری صاحب کے سیاسی تدبر اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا نہ صرف قائل ہوں بلکہ اسے تسلیم بھی کرتا ہوں۔ میں مانتا ہوں کہ میرا ارادہ تھا کہ میں پاکستان پیپلز  پارٹی جوائن کروں لیکن میرے چند دوستوں نے مشورہ دیا کہ میں اپنے صوبے کی خدمت باپ پارٹی میں رہتے ہوئے بھی کر سکتا ہوں اس وقت میں نے پارٹی کی صدارت بھی سنبھالی اور ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم باپ پارٹی کے پلیٹ فارم سے ہی بلوچستان کی حقوق کی بات کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بارڈر پر ایرانی ڈیزل اور پٹرول کے کاروبار پر نرمی برتی جا رہی ہے، ہمارا کام لوگوں کے ذریعہ معاش کو تحفظ دینا ہے تاکہ انکے گھروں کے چولہے جلتے رہیں، یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا کہ جب تک ہم اپنے عوام کو متبادل ذرائع معاش فراہم نہیں کرتے تب تک ہمیں ان سے یہ روزگار نہیں چھیننا چاہیے، وزیراعلیٰ کا کام ہے کہ بڑے فیصلے لے نہ کہ فوٹو سیشن کرے۔

عبد القدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے میں سرکاری نوکریاں کم ہیں اور صنعتیں بھی نہیں ہیں، اگر لوگ بے روزگار ہوں گے تو بے راہ روی کا شکار ہو جائیں گے اور غلط راستے پر جا کر دشمن کے آلہ کار بنیں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ مجھ پر تنقید تو کرتے ہیں لیکن کچھ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں ہماری کامیابیوں کا ذکر بھی کرنا چاہیے، اختلاف رائے ایک صحت مندانہ رجحان ہے لیکن تنقید برائے تنقید نہ ہو بلکہ اس میں اصلاح کا پہلو بھی ہونا چاہیے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان عبد القدوس بزنجو کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات کے تحت بننے والی حکومت کے حوالے سے ابھی سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے، یہ تو آنے والے والا وقت ہی بتائے گا کہ کون اقتدار میں ہوگا اور کون اپوزیشن میں بیٹھے گا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version