وزیراعظم شہبازشریف کے خطاب پر پاکستان تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آلِ شریف کا یہ مسخرہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب کی توہین، سیاست کیلئے ندامت و شرمندگی کی وجہ ہے، عزتَ نفس کے احساس سے محروم اس شخص کے وزارتِ عظمیٰ پر بیٹھتے ہی منصب سے شرافت و وقار رخصت ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شخص اقتدار کیلئے ذلَت کی کسی بھی نوعیّت اور حد گوارا کرنے کیلئے ہمہ وقت آمادہ و تیار ہے، رجیم چینج کے اہداف کی تکمیل کیلئے منصوبہ سازوں کو ایسا ہی کسی ننگِ ملت و بےضمیر مہرہ درکار تھا، اس بے حمیّت شخص نے پچھلے 14 ماہ کے دوران اپنے ہاتھوں سے 6% کی بلند شرح سے ترقی کرتی معیشت کو تباہی کے گھاٹ اتارا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ اس نااہل، نکمّے اور بددیانت شخص نے مہنگائی کو 12سے 38% تک پہنچایا اور عوام کا جینا دوبھر کیا جبکہ اس مجرم نے اپنی چوری بچانے کیلئے اپنے پاؤں پر کھڑے ملک کو آئی ایم ایف کے قدموں میں ڈالا۔ جاتی امراء کے بھگوڑے قزاق کی کھال بچانے کیلئے اس شخص نے پاکستان میں آئین، قانون، اقدار کے قتلِ عام میں شرمناک سہولتکاری کی۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاشی تباہی کا فلڈ گیٹ کھول کر ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے مسخرے کے ہاتھوں حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ کی کسی کو ضرورت نہیں، کٹھ پتلی سرکار کی فسطائیت کو اسرائیلی مندوب کے بیان کے لحاف میں چھپانے کی کوشش نِری بیہودگی ہے جن مجرموں کو ریاست نے پناہ دے رکھی ہے قوم ان کے محاسبے کیلئے یکسو اور تیار ہے
ترجمان پاکستان تحریک انصاف کا مزید کہنا ہے کہ لغویات اور بیہودگی کے بھدّے راگ گانے کی بجائے یہ مسخرہ عوام کا سامنا کرنے کی تیاری کرے، پچھلے 14 ماہ سے جاری ”رقصِ ندامت“ بند کرکے ووٹ کی پرچی کے ذریعے اس مجرم اور اس کے حواریوں کے بارے میں قوم کو فیصلے کا موقع دیا جائے۔
واضح رہے اس سے قبل اسلام آباد میں پاکستان ایجوکیشن اینڈاومنٹ فنڈ اور قومی نصاب میں اصلاحات سے متعلق تقریب ہوئی جس میں وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے باصلاحیت اور مستحق طلباو طالبات میں فنڈزتقسیم کئے گئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قرضہ لینا لمحہ فخریہ نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے۔ آج آئی ایم ایف کے ساتھ میٹنگ ہے آئی ایم ایف ڈیل کوئی حلوہ یا کھیر نہیں بلکہ یہ بہت سخت پروگرام ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ جو بھی حکومت آئے وہ تعلیمی فنڈ میں اضافہ کرے، اکتوبر یا نومبر جب بھی انتخابات ہوں گے تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا جبکہ اتحادی حکومت 14 اگست کو ختم ہوجائے گی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ آج باصلاحیت اور مستحق طلباو طالبات میں فنڈزتقسیم کیے گئے،میں نے اس سفر کاآغاز 2008میں پنجاب سے شروع کیا،2008میں 2ارب روپے ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے لیے مختص کیے، ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ سے ہزاروں افراد ڈاکٹر اورانجینئرز بن چکے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم کے لیے انڈومنٹ فنڈ کی فراہمی کی تجویز پر سیاسی رفقا اور افسران متفق تھے،ہم نے 4لاکھ 50ہزار بچوں اور بچیوں کو تعلیمی وظائف دیئے، خواہش تھی کہ تعلیم کے لیے انڈومنٹ فنڈ کو 2ارب روپے سالانہ سے بڑھایا جائے۔
