ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پرانی مردم شماری پر انتخابات قبول نہیں کریں گے۔
خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان میں جلد سے جلد انتخابات کرانے کے خواہشمند ہیں، ہم غیر جانبدار انتخابات کو ہی انتخابات سمجھتے ہیں، نئی مردم شماری نئی حلقہ بندیوں اور نئی ووٹر لسٹوں کے ساتھ انتخابات وقت پر ہوں، شفاف مردم شماری ہمارا بنیادی مطالبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2018 میں دھاندلی نہ ہوتی تو ہم ثابت کرتے ہم سندھ کی واحد جماعت ہیں، سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ انصاف کیا جائے، کراچی کی آبادی 3کروڑ کے لگ بھگ ہے، اس سے کم کسی مردم شماری کو قبول نہیں کریں گے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینئر نے کہا کہ کراچی کی ووٹر لسٹوں میں بھی گڑ بڑ کی گئی ہے، کراچی کے 40فیصد لوگ اپنا پولنگ اسٹیشن ہی ڈھونڈتے رہ جائیں گے۔
انکا کہنا ہے کہ چند لوگ ایم کیوایم لندن کے نام پر امن کوخطرے سے دوچار کررہے ہیں، جن کارکنان کو غلط سمت دکھائی جارہی ہے وہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں، کارکنان اس شہر کے امن میں تباہی کے ذمہ دار نہ بنیں، میں ان صاحب سے بھی کہتا ہوں خدا کے لیے اس شہر پر رحم کریں۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ملکی سلامتی کی خاطر ایم کیوایم نے اپنی لیڈر شپ کو خیرباد کہا، ایم کیو ایم پاکستان ہی ایم کیو ایم ہے، ایم کیوایم لندن ایم کیوایم نہیں ہے، 7سالوں میں ایم کیوایم پاکستان نے اپنا وجود تسلیم کرایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ہمارے بہت سے مطالبات ابھی تک انصاف کے متلاشی ہیں، ایسا الیکشن ہونا چاہیے جو سب کو قبول ہو، کراچی کے چلنے سے ملکی معیشت چلتی ہے۔
ایم کیو ایم کے کنوینئر نے کہا کہ اگست میں اسمبلیاں اور حکومت ختم ہو جائے گی، اس وقت حکومت ہٹانے سے زیادہ اہم جمہوریت بچانا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ کراچی میں مصنوعی تبدیلی لانے کی ناکام کوشش کی گئی، گزشتہ پانچ سال میں ایم کیو ایم پر لگائی جانے والی پابندیوں کے باوجود بہت قربانیاں دیں، ہم نے اپنے حصے کی قربانیاں دیکر کراچی میں امن خراب نہیں ہونے دیا۔
خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ ہم نے ناانصافیوں کے خلاف صحیح راستے کا انتخاب کیا، اپنے ساتھ ناانصافیوں کےخلاف صحیح راستے چنے عدالت گئے، اسمبلیاں اور حکومتیں ختم ہو جائیں گی تو ہم اپنے مطالبات دہرائیں گے، ہمارے کئی مطالبے انصاف کے آج بھی متلاشی ہیں۔
