وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے معیشت و توانائی بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ ملک اب ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل چکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے کوآرڈیینیٹر برائے معیشت و توانائی بلال اظہر کیانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے سے معیشت میں بہتری آئی، اس پروگرام کا کاروباری برادری نے خیر مقدم کیا اسٹاک مارکیٹ کا مثبت ردعمل آیا، تین جون کے بعد چار ارب بیس کروڑ ڈالر آئے، چین نے ابھی ساٹھ کروڑ ڈالر کا قرض رول اوور کیا ہے۔
وفاقی وزیر مملکت نے کہا کہ آئی ایم ایف کے معاہدے سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخاٸر بہتر ہوٸے اور پاکستان میں استحکام آیا، جن لوگوں نے پاکستان کو ڈیفالٹ کرانے کی کوشش کی ہم نے ان کی بچھاٸی ہوٸی بارودی سرنگیں صاف کیں، وہی عناصر ایک بار پھر آٸی ایم ایف پروگرام کے خلاف جھوٹ بول رہے ہیں، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں مشکل مالی حالات کی وجہ سے اضافہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ یہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ کوٸی نٸے ٹیکس عاٸد کرنے جا رہے ہیں، بجٹ میں جو ٹیکسز عاٸد کیے گٸے ہیں وہی ہیں ان کے علاو کوٸی نیا ٹیکس عاٸد نہیں کیا جا رہا، زرعی آمدن کے حوالے سے ٹیکس عاٸد کرنے کے بارے میں خبروں میں کوٸی صداقت نہیں، اگر پاکستان ڈیفالٹ ہوتا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کا ہوتا، ڈیفالٹ کی وجہ سے لوگوں کو تیل خوراک اور دواٸی تک نہ ملتی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت سنبھال کر سیاست کی بجاٸے ریاست کو بچانے کی کوشش کی، دو ہزار سترہ میں پروجیکٹ تباہی لایا گیا اور نواز شریف کو اقتدار سے نکالا گیا، اس فیصلے سے ملک کو ریورس گٸیر لگایا گیا، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل سے ہم ملکی برآمدات کو فروغ دینا چاہتے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ عوام پاکستان مسلم لیگ ن کو خدمت کا موقع دیں گے۔
