Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

وزیر اعظم 7 اگست کو صحافیوں کے ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراء کریں گے، مریم اورنگزیب

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیر اعظم 7 اگست کو صحافیوں کے ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراء کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے صحافیوں کے لیے ہیلتھ انشورنس فارم کے آن لائن اجراء کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے عامل صحافیوں کے لیے ایک ارب روپے کے فنڈ مختص کئے ہیں۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ صحافیوں، ورکنگ جرنلسٹس اور فنکاروں کے لئے ہیلتھ انشورنس وزیراعظم کا وژن تھا، نواز شریف نے 2013ء میں ہیلتھ کارڈ شروع کیا، سابق دور میں اس منصوبے کا نام بدلا گیا، صحافیوں کے لئے ہیلتھ انشورنس کا آن لائن فارم جاری کیا جا رہا ہے، یہ رجسٹریشن فارم پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہو گا، صحافیوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جا رہا ہے، وزیر اعظم 7 اگست کو صحافیوں کے ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراء کریں گے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس فارم کو آسان اور سہل انداز میں بنایا گیا ہے، صحت کے مسائل کے متعلق تمام تفصیلات فارم میں موجود ہیں، ہیلتھ انشورنس میں صحافیوں کو صحت کی تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، ہیلتھ انشورنس اور صحافیوں کی تنخواہوں کے مسائل ہمیشہ سے رہے ہیں، 14 ماہ کے دوران آئی ٹی این ای کے پلیٹ فارم سے 11 کروڑ روپے ریکور کر کے ملازمین کو ڈائریکٹ ادائیگیاں کی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک میڈیا میں پیمرا ترامیم کے ساتھ کم از کم اجرت ملازمت کے تحفظ کو منسلک کر دیا ہے، وزیراعظم کی ہدایت تھی کہ صحافیوں کو ہیلتھ انشورنس جلد یقینی بنائی جائے، صحافی برادری سمیت تمام ورکنگ جرنلسٹس کو اس میں شامل کیا گیا ہے، یہ منصوبہ پورے پاکستان کے لئے ہے، ملک بھر کے صحافی اس میں رجسٹریشن شروع کریں، حکومت کی طرف سے صحت کی سہولیات ملک بھر کے صحافیوں کے لئے ہیں۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ حکومت میں صحافیوں کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی گئی، الحمد اللہ اس دور میں صحافیوں کو تھپڑ نہیں مارے گئے، پسلیاں نہیں ٹوٹیں، گولیاں نہیں لگیں، موجودہ حکومت کو میڈیا پریڈیٹر کا خطاب نہیں ملا بلکہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے کے حوالے سے درجہ بندی میں سات درجے بہتری آئی۔

 

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

 

متعلقہ خبریں

Exit mobile version