ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ باجوڑ جلسے پر حملے کی فوری تحقیقات ریاست کی ذمہ داری ہے۔
تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمداللہ نے باجوڑ کے صدر مقام خار میں جمعیت علماء اسلام کے ورکرز کنونشن میں بم دھماکے کی مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جلسے پر حملہ فساد ہے جہاد نہیں جبکہ یہ حملہ کھلم کھولا دہشت گردی ہے ، اس سے پہلے بھی دو درجن سے زیادہ جے یو آیی کے ذمہ دار ٹارگٹ ہوکر شہید ہوئے۔
ترجمان پی ڈی ایم نے یہ بھی کہا کہ باجوڑ جلسے پر حملے کی فوری تحقیقات ریاست کی ذمہ داری ہے، کارکنوں کا مقدس خون اسلام و ملک دشمن قوتوں کو ہضم نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پر تشدد واقعات کا مقصد جمعیت علماء اسلام کو پرامن اور آئینی جدوجہد کی راہ سے ہٹانا ہے، اس جلسے میں مجھے دعوت دی گئی تھی لیکن کچھ ذاتی اہم مصروفیت کی وجہ سے نہ جاسکا۔
ترجمان پی ڈی ایم کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ حملہ جمعیت علماء اسلام پر نہیں بلکہ جمہوریت پر ہے، اس کا جواب آئندہ انتخابات میں دیا جائے گا۔
حافظ حمداللہ نےکہا کہ شہید وزخمی کارکنوں کے خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ واقعے کی تحقیقات کیلئے تمام اداروں کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا، واقعے میں ملوث عناصر کو نشان عبرت بنایا جائے۔
ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمداللہ نے صوبائی نگران حکومت سے مطالبہ ہے کہ زخمیوں کو ائیر ایمبولنس کے ذریعے پشاور منتقل کیا جائے، یہ حملہ جمعیت ، ریاست اور جمہوری قوتوں پر حملہ ہے۔
باجوڑ: جے یو آئی کے جلسے میں دھماکا، 30 افراد جاں بحق ، 160 سے زائد زخمی
باجوڑ میں جے یو آئی (ف) کے جلسے میں بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق جبکہ 160 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے علاقے باجوڑ میں میں دھماکا اس وقت ہوا جب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے زیر اہتمام ورکرز کنونشن جاری تھا، کنونشن میں ایم این اے جمال الدین اور سابق سینیٹر عبدالرشید سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
دھماکے میں جمال الدین اور عبدالرشید محفوظ رہے۔ زخمی ہونے والوں کو طبی امداد کیلئے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور باجوڑ کے قریب تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا، دھماکا کس نوعیت کا ہے تحقیقات کے بعد پتا چلے گا، ضلع انتظامیہ نے شہر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔
