فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف آئینی درخواستوں پر سپریم کورٹ نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔
سپریم کورٹ کے جاری کردہ تحریری حکم نامے کے مطابق سپریم کورٹ 2021 میں قرار دے چکی ہے کہ بنچز کی تشکیل کا اختیار صرف چیف جسٹس کا ہے اور چیف جسٹس بطور ماسٹر آف روسٹر بنچ کی تشکیل پر فیصلہ کرچکے ہیں۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ موجودہ حالات فوجی عدالتوں کے کیس میں فل کورٹ بنچ تشکیل دینا ممکن نہیں ہے، موسم گرما کی تعطیلات کے باعث تمام ججز دستیاب نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ کے جاری کردہ تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت کے لیے 9 رکنی بنچ میں سے 2 ججز نے انکار کیا جبکہ 1 جج اعتراض پر خود الگ ہوئے۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست نمٹائی جاتی ہے۔
