Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

وفاقی کابینہ کا الوداعی اجلاس؛ ملک کی پہلی میوزک پالیسی منظور

وفاقی کابینہ کے الوداعی اجلاس میں ملک کی پہلی میوزک پالیسی منظور کر لی گئی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا آخری اجلاس وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا جس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ اسمبلیوں کی تحلیل اور نگران سیٹ اپ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

اجلاس میں وزیر اعظم نے اتحادی جماعتوں کے وزراء سے آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر مشاورت کی۔

اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ ارکان کے بھرپور تعاون پر اظہار تشکر کیا اور کابینہ ارکان کی مختصر مدت میں کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام ملک کیلئے ضروری تھا، کوئی شک نہیں اس کی شرائط کڑی اور سخت ہیں، پاکستان کے دیوالیہ ہونے سے تباہ کن صورتحال پیدا ہوتی، آئی ایم ایف کا پروگرام ہو چکا ہے، ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج اسمبلی کی تحلیل کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھیج دوں گا، سعودی عرب کے وفد سے سرمایہ کاری پر بات کی، 14 سے 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی۔

پاکستان کی میوزک انڈسٹری کے لئے بڑی خوش خبری؛

اجلاس میں کابینہ نے ملک کی پہلی میوزک پالیسی کی منظوری دی۔

1970 کے بعد سے اب تک میوزک کے شعبے میں قانونی، انتظامی یا پالیسی لیول کی کوئی تبدیلی نہیں ہو سکی تھی، وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے فلم اور ڈرامہ کی صنعت کے ساتھ میوزک انڈسٹری کی بحالی اور ترقی کے لئے پالیسی ڈرافٹ تیار کیا تھا۔

میوزک پالیسی کے تحت مراعات اور سہولیات سے میوزک انڈسٹری کو نئی زندگی ملے گی۔

نئی میوزک پالیسی سے پائیریسی، کاپی رائیٹس سمیت میوزک انڈسٹری کو درپیش دیگر مسائل حل ہوجائیں گے۔

پبلک پرفارمنس، پروڈکشن، ڈسری بیونیشن، ایڈیپٹیشن، ڈیوریشن، مکینیکل، کمیونیکیشن رائیٹس کو قانونی ڈھانچے میں لایا جا رہا ہے۔

ان اقدامات میں یوزرز اینڈ لائیسنسز کا مسئلہ بھی حل ہو گا جس سے میوزک انڈسٹری کو فروغ ملے گا۔

اس پالیسی سے مناپلائزیشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ میوزک ورکرز کے بنیادی قانونی حقوق کا تحفظ ہونے کے ساتھ کاپی رائٹ سمیت میوزک سٹیک ہولڈرز کو درپیش تمام مسائل اور مطالبات حل ہوں گے۔

میوزک کی تیاری، گانے والے، لکھنے والے، دھن بنانے والوں کے قانونی حقوق کا تحفظ اس پالیسی سے یقینی ہو گا۔

اس کے ذریعے میوزک کی فروخت، اس کی چربہ سازی اور میوزک چرانے سے متعلق دیرینہ مسائل حل ہو جائیں گے۔

میوزک پالیسی ہمسایہ ممالک میں رائج قوانین اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تیاری کی گئی ہے۔

پرانے میوزک کو محفوظ کرنے کے لئے خصوصی اقدامات بھی پالیسی میں شامل ہیں۔

مقامی اور فوک میوزک، علاقائی زبانوں میں موسیقی کے لئے بھی اقدامات پالیسی کا حصہ ہیں۔

اس پالیسی کے ذریعے پاکستان کی موسیقی کے عظیم ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لئے اقدامات ہوں گے۔

پاکستان کی موسیقی کا ورثہ بہت بھرپور اور تاریخی ہے جو صوفیا کرام کی شاعری، قدیم اور جدید موسیقی کا نادر مجموعہ ہے۔

موسیقی پاکستانی معاشرے کی روح کہی جا سکتی ہے۔ یہ قومی، تہذیبی اور ثقافتی شناخت نسل درنسل منتقل ہوتی آرہی ہے۔

اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، رانا ثنا اللہ، مریم اورنگزیب، سردار ایاز صادق، میاں جاوید لطیف، اعظم نذیر تارڑ، نوید قمر، مولانا اسعد محمود، سید امین الحق، آغا حسن بلوچ، طاہر بشیر چیمہ، مرتضیٰ جاوید عباسی، عون چوہدری، شیری رحمان، قمر زمان کائرہ اور مولانا عبدالواسع نے شرکت کی۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں

Exit mobile version