آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی بل پر دستخط کے معاملے پر عوام نے صدر مملکت سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی بل پر عوام نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ صدر استعفیٰ دیں، ان کو استعفیٰ دے دینا چاہیے، ان کو پتا ہی نہیں میرا عملہ کیا کر رہا ہے، جس صدر کو اپنا نہیں پتا تو ملک کے بارے میں کیا پتا ہوگا۔
عوام نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ صدر اپنی ذاتی سیاسی پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے غلط بیانی کررہے ہیں، انہوں نے دستخط نا کرنے کے بارے میں اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کر کے بہت غیر زمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ تین دن بعد یاد آرہا ہے کہ دستخط نہیں کیے، ان کو چاہیے تھا کہ اسی وقت ردعمل دیں، خاموشی کا مطلب نیم رضامندی سمجھا جاتا ہے۔
عوام نے مزید کہا کہ صدر خود کو بچانے کے لیے عوام کو آرمی کے خلاف بھڑکا رہے ہیں، صدر جھوٹ بول رہے ہیں، وہ سب جانتے تھے، یوٹرن لینا کوئی اچھی بات نہیں، یہ تو عوام کو دھوکے میں رکھنے والی بات ہے، یہ انتہائی افسوسناک اور لمحہ فکریہ ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صدر عارف علوی نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے متعلق بتایا تھا کہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا۔میں نے اپنے عملے سے کہا کہ وہ بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس کر دیں تاکہ انہیں غیر موثر بنایا جا سکے۔
صدر مملکت نے کہا تھا کہ میں نے ان سے کئی بار تصدیق کی کہ آیا وہ واپس آچکے ہیں، تاہم مجھے آج پتہ چلا ہے کہ میرے عملے نے میری مرضی اور حکم کی خلاف ورزی کی، اللہ سب جانتا ہے اور وہ معاف کر دے گا، میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو اثر انداز ہوں گے۔
دوسری جانب صدر عارف علوی کے سیکریٹری وقار احمد کو ان کے عہدے سے فارغ کردیا گیا ہے۔ وقار احمد کو ہٹانے کا اعلان ایوان صدر کی جانب سے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل پر کیا گیا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔
