ڈپٹی سیکرٹری جنرل پاکستان مسلم لیگ (ن) عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ کسی بھی چور کی سزا معطل تو ہو جاتی ہے مگر سزا ختم نہیں ہوتی۔
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی سیکرٹری جنرل پاکستان مسلم لیگ (ن) عطاء تارڑ نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا جو سپریم کورٹ پہلے دے چکی تھی، یہ بھی تاریخ بن رہی ہے، جب آڈیو سامنے آئی تو سب کھل کر سامنے آگیا کہ کون کدھر کھڑا ہے، یہ فیملی کی مرضی سے فیصلے ہو رہے ہیں، ایک جج صاحب مظاہر علی نقوی جو خود تو اپنے کیس میں پیش نہیں ہوئے مگر ایک پارٹی کے وکیل بن کر کیس سنتے رہے۔
ڈپٹی سیکرٹری جنرل پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ وہ صاحب جن کے خلاف سپریم جوڈیشنل کونسل میں کیس ہے وہ بھی ایک پارٹی کے وکیل بنے ہوے تھے، اگر جج خود وکیل صفائی بن جائیں تو پھر وکیل صفائی کی کیا ضرورت، کسی اور کو یہ سہولت دستیاب نہیں ہے جو ان کو میسر ہیں، ملزم خود تسلیم کرتا ہے میں نے تحفے لیے اور بیچے، ان کے وکیل نے الیکشن کمیشن کے سامنے اعتراف کیا، کوئی بھی ملک کا سربراہ یہ تحائف آگے بیچ نہیں سکتا، انہوں نے نہ صرف پیچے ہیں بلکہ آگے کاروبار کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں چیف جسٹس کو ان کا کوئی کیس نہیں سننا چاہیے تھا، جب آڈیو کا کمیشن بنا تو آپ بیچ میں آگئے، اگر آپ نے کیس سننا تھا تو یہ فیصلہ اپنی ساس کے حق میں گھر میں ہی فیصلہ دے دیتے، آپ کو جسٹس قاضی فائز عیسی کو یہ کیس سننے دینا چاہیے تھا، بطور گواہ اپنے بندے رؤف حسن کو پیش کرنا چاہتے تھے، یہ سب باتیں سپریم کورٹ کے بنچ کے سامنے پیش کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا بنچ اگر اپنے ماتحت عدالت کو فیصلہ کرنے کا کہے گا تو پھر کیسا فیصلہ آئے گا، سزا معطلی تو ہو جاتی ہے کسی بھی چور ڈاکو کی مگر سزا ختم نہیں ہوتی، سزا ختم ہونے کے لیے کیس کے میرٹ کو دیکھا جائے گا۔
حالات حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
