احسن اقبال نے کہا ہے کہ امن و استحکام کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے 2013 میں نواز شریف نے کہا کونسی وزارت لینی ہے؟؟ میں نے کہا مجھے وزارت میں کوئی دلچسپی نہیں، ہمارا مقصد قوم کی خدمت کرنا تھا۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے تمام صوبوں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ویژن 2025 بنایا، نواز شریف نے بلکل سہی بات کہی تھی کہ جی 20 سمٹ پاکستان میں ہونا تھا، ہمارے ویژن 2025 کو سبوتاژ کیا گیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی پیک نے ہمارے انفراسٹرکچر کو بہتر کیا، ہم پچھلے 70 سال سے تھر کے اندر کوئلے کو استعمال نہیں کرسکے تھے لیکن سی پیک کے ذریعے ملک میں سستی بجلی پیدا ہوئی۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا پاکستان کی کارکردگی سے مطمئن تھی لیکن نواز شریف کے خلاف سازش کی گئی اس کے باعث ملک کی ترقی کا سفر روکا گیا۔
احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی جریدوں نے اور اداروں نے کہا کہ جو کارکردگی ن لیگ نے دکھائی ہے اس کے مطابق 2018 کے انتخابات میں جیت ن لیگ کی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر طرف سے پاکستان کو گھیرا گیا لیکن 1998 میں ہم ایٹمی طاقت بنے، ایٹمی پروگرام میں کوئی ہماری مدد کرنے کو تیار نہیں تھا لیکن اس شعبے میں ہم کامیاب ہوئے۔
احسن اقبال کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ، معدنیات اور بہترین دماغ موجود ہیں، پوری دنیا ہماری مدد کرنا چاہتی ہے جبکہ ورلڈ بینک ، آئی ایم ایف سے ہم پیسے لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا سب بڑا مسئلہ پالیسیوں کو عدم تسلسل ہے، امن و استحکام کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ اقتصادی ترقی میں ایکسپورٹ اہم کردار کرتی ہے۔
احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ 1960 میں پاکستان 200 ملین ڈالر کی ایکسپورٹ کرتا تھا جبکہ تھائی لینڈ ، سائوتھ کوریا اور بنگلادیش ملا کر بھی 1960 میں اتنی ایکسپورٹ نہیں کرتے تھے۔ آج پاکستان 30 ارب ڈالر تک پہنچا ہے اور تھائی لینڈ کی ایکسپورٹ 300 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے مزید کہا کہ ہم ڈالر کمانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، نجات کا واحد ذریعہ ایکسپورٹ ایمرجنسی ہے لہذا ہر تاجر اور ہر دکاندار ایکسپورٹ کرے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
