Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکہ کے تعاون سے ماحولیاتی تبدیلی کے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملی ہے، نگراں وزیراعظم

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ امریکہ کے تعاون سے ماحولیاتی تبدیلی کے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے امریکہ کے معروف تھنک ٹینک کونسل آف فارن ریلیشنز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تاریخی لمحات سے گزر رہا ہے، آئندہ مہینوں میں پاکستانی عوام نئی حکومت منتخب کریں گے، نگراں حکومت کا کام آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے معاونت فراہم کرنا ہے، ہم جمہوری اصولوں کے پابند ہیں جس کا آئین پاکستان میں تعین کیا گیا ہے، نگراں حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستان کے عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا بھرپور موقع دیا جائے، مستحکم اور جمہوری پاکستان سے امریکہ جیسے ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ جمہوری اقدار، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پاک۔امریکہ دیرینہ تعلقات کی بنیاد ہیں، دونوں ممالک کا کئی علاقائی اور عالمی امور پر مشترکہ نقطہ نظر ہے، پاک۔امریکہ تعلقات کو کسی دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں نہیں دیکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مشترکہ ایجنڈا سکیورٹی تعاون، سرمایہ کاری، آئی ٹی، توانائی، موسمیاتی تبدیلی، زراعت، روابط، عوام کی سطح پر تعلقات اور ثقافتی وفود کے تبادلوں پر مشتمل ہے، امریکہ کے تعاون سے ماحولیاتی تبدیلی، عدم تحفظ خوراک کے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملی ہے، معاشی تعلقات کی بحالی کیلئے تجارت و سرمایہ کاری فریم ورک معاہدے پر عملدرآمد کا آغاز ہوا ہے، امریکہ پاکستان سے اشیاءبرآمد کرنے والا بڑا ملک ہے، گذشتہ سال پاکستان کی امریکہ کو برآمدات کا حجم 8.4 ارب ڈالر رہا جو امریکہ کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار ہے، 80 امریکی کمپنیاں پاکستان میں کاروبار کر رہی ہیں۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل قائم کی گئی ہے جس کا مقصد پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے، ایس آئی ایف سی کے ذریعے زراعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداوار کے شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلباء و طالبات سکالرشپس پروگراموں کے ذریعے امریکی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ہم امریکہ کے ساتھ تعلیمی شعبہ میں تعاون میں اضافہ کے خواہاں ہیں، 10 لاکھ پاکستانی امریکہ میں مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز پیچیدگی کا شکار ہیں، ہمیں مشترکہ خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں سرحدی تجارت، فوجی تنازعات، دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی، عدم تحفظ خوراک، مہاجرین کی تعداد میں اضافہ، غریبوںاور امیروں کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی تفریق اور کورونا وبا جیسے چیلنجز شامل ہیں، اس سے دنیا بھر میں کروڑوں لوگ متاثر ہو رہے ہیں اور یہ عالمی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ نئے چیلنجز کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی طور پر متفقہ شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے اور باہمی مفاد پر مبنی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں گذشتہ سال موسمیاتی تبدیلی کے باعث تباہ کن سیلاب آیا، ہم دنیا پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے آگاہ ہیں، پاکستان عالمی گرین ہائوس گیسوں میں حصہ ایک فیصد ہے تاہم یہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، پاکستان کاربن کے اخراج سے نمٹنے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہا ہے، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک اکیلے بوجھ نہیں اٹھا سکتے، اجتماعی ردعمل کیلئے موسمیاتی انصاف فراہم کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے لاس اینڈ ڈیمج فنڈ قائم کیا گیا جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کو مدد فراہم کرنا تھا تاہم اپنے مشترکہ مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کی مدد پر امریکی حکومت اور عوام کا شکرگزار ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور داعش جیسی کالعدم تنظیمیں پاکستان اور پوری دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہیں، ہمیں اس ابھرتے ہوئے نئے خطرے سے نمٹنے کیلئے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ افغان حکومت کے ساتھ بعض معاملات پر تعاون کی فضا موجود ہے، افغانستان میں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی قوت برسوں موجود رہی، امریکہ سمیت دنیا کی بڑی فوجی طاقتیں 20 سال تک افغان سرزمین پر موجود رہیں، پاکستان میں یومیہ بنیاد پر ہمارے بہادر فوجی اور عوام دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں، افغانستان میں پائیدار امن چاہتے ہیں، اگر افغانستان میں استحکام نہ آیا تو یہ نہ صرف ہمسایہ ملکوں بلکہ عالمی امن کیلئے بھی چیلنج بن کر ابھرے گا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version