نگراں وزیراعظم انوار الحق نے کہا ہے کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل اسمبلی سےخطاب کرکے فخر محسوس کررہا ہوں، دنیا کو اس وقت کئی چینلجز کا سامنا ہے جبکہ دنیا میں نئے بلاکس بن رہے ہیں، دنیا نئی سردجنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے کہا کہ کووڈ، تنازعات، موسمیاتی تبدیلی کے بڑی چیلنجز سامنے آئے۔پاکستان موسمی تبدیلی سے بری طرح متاثر ہوا جبکہ کورونا اور موسمی تبدیلی سے عالمی معیشت متاثر ہوئی، موسمی تبدیلی کیلئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔
انوار الحق نے یہ بھی کہا کہ سیلاب سے1700 افراد ہلاک اور 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، پاکستان معیشت کی بحالی پرتوجہ دے رہا ہے جبکہ پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے جبکہ پاکستان بھارت کے ساتھ بھی برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سےخطے میں حالات کشیدہ ہیں، بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو نافذ کر رکھا ہے، بھارت میں حریت رہنماؤں کو نظر بند کر رکھا ہے جبکہ جعلی مقابلوں میں بڑی تعداد میں کشمیر بھی قتل ہوئے۔
انوار الحق نے کہا کہ سلامتی کونسل کو کشمیر پر اپنی قراردادوں پرعمل کرنا چاہئے، عالمی طاقتوں کو خطے میں امن کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں، عالمی طاقتوں کوبھارت پر دباؤ ڈالنا چاہئے جبکہ عالمی طاقتیں بھارت کو کشمیر میں مظالم بند کرانے کی کوششیں کریں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو افغانستان کی جانب سےحملوں کا سامنا ہے، افغان عبوری حکومت سے تعاون کے خواہشمند ہیں، افغان حکومت کے تعاون سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے جبکہ افغانستان میں امن پاکستان کیلئے بہت ضروری ہے۔
نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا کے خطرات دنیاکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، اسلامو فوبیا کے تدارک کیلئے ہنگامی اقدامات درکار ہیں، 15 مارچ کو انسداد اسلامو فوبیا کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔
انوار الحق کا یہ بھی کہنا تھا کہ قرآن پاک کی بےحرمتی کے واقعات انتہائی افسوسناک ہیں، نائن الیون کے بعد اسلاموفوبیا میں اضافہ ہوا ہے، اسلاموفوبیا کے مرتکب افراد کو سخت سزائیں دی جانی چاہئیں۔
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے، اقوام متحدہ کودنیا میں قیام امن کیلئےٹھوس اقدامات کرنےہوں گے اور تمام مذاہب کا احترام یقینی بنانا ہوگا۔
